شاعری

نہیں تھا کوئی بھی پھر بھی تھیں آہٹیں کیا کیا

نہیں تھا کوئی بھی پھر بھی تھیں آہٹیں کیا کیا تمام رات ہوئیں دل پہ دستکیں کیا کیا نہ مٹ سکے کسی صورت بھی میرے دل کے شکوک تری نگاہ نے کی ہیں وضاحتیں کیا کیا یہ آرزو ہے کہ ان میں ہو کوئی تجھ جیسا نظر میں گھومتی رہتی صورتیں کیا کیا کسی کے طرز تغافل پہ کس لئے الزام مجھے تو خود سے رہی ...

مزید پڑھیے

بے طرح ان میں الجھ جائے گا نادانی نہ کر

بے طرح ان میں الجھ جائے گا نادانی نہ کر واقعات عمر رفتہ پر نظر ثانی نہ کر دل پہ جو گزری ہے اس پر اشک افشانی نہ کر زندگی کی انجمن میں مرثیہ خوانی نہ کر کیا ضروری ہے کہ یہ دکھ بانٹنے والے بھی ہوں ملنے والوں سے کبھی ذکر پریشانی نہ کر آرزوؤں کو نہ رکھ ہر چیز سے بڑھ کر عزیز تیز تر ...

مزید پڑھیے

روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں

روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں جسم افلاک میں ہم صورت جاں رہتے ہیں ہیں دل دہر میں ہم صورت امید نہاں مثل ایماں رخ ہستی پہ عیاں رہتے ہیں جو نہ ڈھونڈو تو ہمارا کوئی مسکن ہی نہیں اور دیکھو تو قریب رگ جاں رہتے ہیں ہر نفس کرتے ہیں اک طرفہ تماشا پیدا ہم سر دار بھی تزئیں جہاں رہتے ...

مزید پڑھیے

دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے

دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے گر کبھی خود پہ نظر جائے تو صحرا دیکھے آنکھ وہ آنکھ جو ہر قطرے میں دریا دیکھے تو مگر سامنے آ جائے تو پھر کیا دیکھے خواب میں ہو تو یہ دل دیکھے تری دید کے خواب خواب سے جاگے تو اک خواب سی دنیا دیکھے جو سمجھتا ہے کہ کھل جاتا ہے فریاد سے بخت سوئے افلاک ...

مزید پڑھیے

دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو

دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو جینا ہے مجھے تازہ ہوا چاہئے مجھ کو آزار بھی تھے سب سے زیادہ مری جاں پر الطاف بھی اوروں سے سوا چاہئے مجھ کو وہ گرم ہوائیں ہیں کہ کھلتی نہیں آنکھیں صحرا میں ہوں بادل کی ردا چاہئے مجھ کو لب سی کے مرے تو نے دیے فیصلے سارے اک بار تو بے درد سنا چاہئے ...

مزید پڑھیے

وہ جس کی داستاں پھیلی دل دیوانہ میرا تھا

وہ جس کی داستاں پھیلی دل دیوانہ میرا تھا زبانیں دشمنوں کی تھیں مگر افسانہ میرا تھا تڑپتا ہوں کہ اک ساغر کسی حاتم سے مل جائے زوال آسماں دیکھو کبھی مے خانہ میرا تھا بلا کی خامشی طاری تھی ہر سو تیری ہیبت سے سر محفل جو گونجا نعرۂ مستانہ میرا تھا کٹے یوں تو ہزاروں سر وفا کی کربلاؤں ...

مزید پڑھیے

آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیا

آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیا اس کی گلی میں آنا جانا چھوڑ دیا منظر بھی سب بانجھ رتوں میں ڈوب گئے آنکھوں پر بھی پہرہ بٹھانا چھوڑ دیا ختم ہوئی شوریدہ سری لب سل سے گئے محفل محفل ہنسنا ہنسانا چھوڑ دیا نظروں پر کھڑکی کے پٹ دیوار کیے دروازوں میں اس کا سجانا چھوڑ دیا جب سے ہوا احساس ...

مزید پڑھیے

آرزو رقص میں ہے وقت کی آواز کے ساتھ

آرزو رقص میں ہے وقت کی آواز کے ساتھ زندگی نغمہ سرا ہے نئے انداز کے ساتھ زندگی دیکھ نہ یوں اجنبی انداز کے ساتھ ہم کو نسبت ہے تری چشم فسوں ساز کے ساتھ اس کے مذکور سے لبریز ہیں نغمے اس کے اس نے مرغوب کیا دل کو کس اعجاز کے ساتھ یہ حقیقت میں زمانے کی خبر رکھتے ہیں سہمے سہمے سے ہیں جو ...

مزید پڑھیے

کسے خبر تھی کہ ذہن و دل میں عجیب سا انتشار ہوگا

کسے خبر تھی کہ ذہن و دل میں عجیب سا انتشار ہوگا وہ وقت آئے گا بے یقینی کا چار جانب غبار ہوگا یہ صاف ظاہر ہے زندگی میں سکوں کی ہوگی نہ کوئی صورت کہیں خزاں کی اجارہ داری کہیں فریب بہار ہوگا یہاں کا آئین ہی عجب ہے کہ طرز نو کا یہ مے کدہ ہے جو بیکسوں کا لہو پیے گا وہ مے کشوں میں شمار ...

مزید پڑھیے

ان کی یادوں کی حسیں پرچھائیاں رہ جائیں گی

ان کی یادوں کی حسیں پرچھائیاں رہ جائیں گی دل کو ڈسنے کے لئے تنہائیاں رہ جائیں گی ہم نہ ہوں گے پھر بھی بزم آرائیاں رہ جائیں گی اپنی شہرت کے لئے رسوائیاں رہ جائیں گی ہم خلا کی وسعتوں میں اس طرح کھو جائیں گے دور تک بکھری ہوئی تنہائیاں رہ جائیں گی مٹ نہ پائیں گے کسی صورت بھی ماضی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4014 سے 4657