نہیں تھا کوئی بھی پھر بھی تھیں آہٹیں کیا کیا
نہیں تھا کوئی بھی پھر بھی تھیں آہٹیں کیا کیا تمام رات ہوئیں دل پہ دستکیں کیا کیا نہ مٹ سکے کسی صورت بھی میرے دل کے شکوک تری نگاہ نے کی ہیں وضاحتیں کیا کیا یہ آرزو ہے کہ ان میں ہو کوئی تجھ جیسا نظر میں گھومتی رہتی صورتیں کیا کیا کسی کے طرز تغافل پہ کس لئے الزام مجھے تو خود سے رہی ...