شاعری

تمہیں بتاؤ تمہارا ہے انتظار کسے

تمہیں بتاؤ تمہارا ہے انتظار کسے تمہاری یاد ستاتی ہے بار بار کسے یہ کس کی آنکھوں سے برسے گا ابر صبح الم شب نشاط بنائے گی غم گسار کسے لہو کا لمس تو خنجر کے لب نے چوس لیا دکھائے رنگ تبسم یہ اشک بار کسے کھلیں گی کس کی تمنائیں صحن‌ گلشن میں نصیب آئے گا وہ موسم بہار کسے یہ دوستوں کی ...

مزید پڑھیے

کیفیت اضطراب کی سی ہے

کیفیت اضطراب کی سی ہے تیرے خط کے جواب کی سی ہے صبح پڑھتا ہوں شام پڑھتا ہوں تو مکمل کتاب کی سی ہے سورۂ شمس ہے نظر تیری شعلگی آفتاب کی سی ہے تیری موجودگی سرور آگیں تیری فرقت عذاب کی سی ہے میری آنکھیں ہیں تتلیوں کی طرح تیری صورت گلاب کی سی ہے کیا کرو گے اسدؔ اسے لے کر جب یہ دنیا ...

مزید پڑھیے

ہنسی ان کی گل اور چمن جانتے ہیں

ہنسی ان کی گل اور چمن جانتے ہیں یہ لب مسکرانے کا فن جانتے ہیں نئے لوگ ہو تم نئی بات جانو مرا حال اہل کہن جانتے ہیں مبارک ہو تم کو حصار خموشی زباں والے طرز سخن جانتے ہیں لہو کے جو قطرے بہائے ہیں میں نے مرے جسم کے پیرہن جانتے ہیں تم ہی صاحب سلطنت تو نہیں ہو حکومت کے ہم بھی چلن ...

مزید پڑھیے

وہ تھک کر بیٹھ جانا چاہتا تھا

وہ تھک کر بیٹھ جانا چاہتا تھا مسافر تھا ٹھکانہ چاہتا تھا کہ اس کی آنکھ بھیگی جا رہی تھی مگر وہ مسکرانا چاہتا تھا میں اس کی دسترس میں آ گیا جب وہ مجھ سے دور جانا چاہتا تھا کہ اکثر شب گئے آنکھوں کا موتی ڈھلک کر ٹوٹ جانا چاہتا تھا نئی جہتیں ہوئیں قائم مگر وہ وہی قصہ پرانا چاہتا ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص جو منزل بھی رہ گزار بھی ہے

وہ ایک شخص جو منزل بھی رہ گزار بھی ہے نشاط و کیف میں ڈوبا ہے غم گسار بھی ہے مجاز اور حقیقت کا آئنہ بن کر ہماری ذات یہاں لیل بھی نہار بھی ہے تمہارے کمرے میں گلشن کا رنگ روپ ملا یہاں تو میز پہ پھولوں کے ساتھ خار بھی ہے تمہاری ذات سے اس دل کا رابطہ بھی نہیں تمہاری یاد میں دل میرا بے ...

مزید پڑھیے

سکون لٹتا رہے گا فضا ہی ایسی ہے

سکون لٹتا رہے گا فضا ہی ایسی ہے ہمارے شہر کی آب و ہوا ہی ایسی ہے کبھی نہ آئے گی ہونٹوں پر اب ہنسی کی طرح وہ ایک بات کہ جس کی ادا ہی ایسی ہے دہکتی دھوپ میں ساون کی طرح رہتا ہوں مرے بزرگ کے لب کی دعا ہی ایسی ہے کسی کے حسن سماعت پہ ٹھیس کیوں نہ لگے کسی کے ہونٹوں پہ اب کے صدا ہی ایسی ...

مزید پڑھیے

سلگتی آگ تھی نہ جلتے آشیانے تھے

سلگتی آگ تھی نہ جلتے آشیانے تھے بہت حسین وہ گزرے ہوئے زمانے تھے ہماری آنکھوں کو اس کا خیال ہی کب تھا کہ ان لبوں کو بھی کچھ روز مسکرانے تھے شریک بزم اسی واسطے ہوا نہ کوئی شب نشاط کئی غم گلے لگانے تھے یہ اور بات کہ چہرے پہ اجنبیت تھی تعلقات تو ان سے بہت پرانے تھے عجیب شرط تھی اس ...

مزید پڑھیے

نہ میں ہی تنہا تھا نہ میری رہ گزر تنہا

نہ میں ہی تنہا تھا نہ میری رہ گزر تنہا شریک راہ رہے تم مگر سفر تنہا حصار رنگ سے باہر سبھی نکل آئے الجھ کے رہ گئی اک میری ہی نظر تنہا بہت قریب ہے کہ تم سے گفتگو بھی ہو دیار فکر میں آتے رہے اگر تنہا حروف ہی کی طرح ٹوٹتے بکھرتے رہے کتاب پڑھتے رہے ہم جو رات بھر تنہا عجیب طرز رہائش ...

مزید پڑھیے

فکر کو خواب خیالات کو فانی لکھنا

فکر کو خواب خیالات کو فانی لکھنا زندگی آنکھ چرائے تو کہانی لکھنا شاخ پہ پھول کھلے ہوں بھی تو کچھ فرق نہیں تم بہاروں کو بھی اب دور خزانی لکھنا یوں بھی ہو جائے گی تصنیف مکمل یارو کچھ روایات سے کچھ اپنی زبانی لکھنا چاند لکھنا تو نگاہوں میں ہو چہرہ اس کا چاندنی برسے تو موجوں کی ...

مزید پڑھیے

تلاش راہ میں راہی کہاں کہاں نہ گیا

تلاش راہ میں راہی کہاں کہاں نہ گیا طلب جہاں کی اسے تھی کبھی وہاں نہ گیا یہاں سے آگے کہیں پھر یہ کارواں نہ گیا کہ میرے گھر سے تو باہر کبھی دھواں نہ گیا الجھتی رہ گئیں موجوں سے کشتیاں اپنی ہوا تھی تیز مگر زور بادباں نہ گیا اسے اندھیروں کی پہچان کیا ہوئی لوگو چراغ جس کا ہواؤں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3996 سے 4657