شاعری

حروف عرض طلب کی صورت گزرتے لمحوں کا خواب لکھنا

حروف عرض طلب کی صورت گزرتے لمحوں کا خواب لکھنا ہماری آنکھوں کے سامنے ہی ہمارے دل کی کتاب لکھنا کسی کی نظروں کی نرم بارش سے جب بھی بھیگے بدن کی مٹی سلگتی سانسوں کے پیرہن پر حدیث حسن و شباب لکھنا ہمارے ہونٹوں کی تشنہ کامی تمہاری آنکھوں سے جب بھی لپکے کہیں یہ تتلی کہیں پہ غنچہ ...

مزید پڑھیے

کسی کو راج دلارے فریب دیتے رہے

کسی کو راج دلارے فریب دیتے رہے کسی کو جان سے پیارے فریب دیتے رہے یقین ملتا رہا تھرتھراتے ہونٹوں سے مگر نظر کے اشارے فریب دیتے رہے تمام رات میں چلتا رہا ہوں کانٹوں پر تمام رات ستارے فریب دیتے رہے کنول کھلا تھا محبت کا جس کے پانی پر وہ جھیل اس کے کنارے فریب دیتے رہے سراب بنتا ...

مزید پڑھیے

سمندر بھی اگرچہ کم بہت ہے

سمندر بھی اگرچہ کم بہت ہے مری تشنہ لبی میں دم بہت ہے بہت دن بعد خط آیا ہے ان کا مزاج دلبراں برہم بہت ہے غلط اخبار نے لکھا تھا نفرت یہاں تو پیار کا موسم بہت ہے اگر رونا ہے تو رونے کی خاطر حسین ابن علی کا غم بہت ہے تمہارے قہقہوں میں جان کتنی ہمارے آنسوؤں میں دم بہت ہے

مزید پڑھیے

نیرنگی بہار و خزاں دیکھتے رہے

نیرنگی بہار و خزاں دیکھتے رہے حیرت سے ہم طلسم جہاں دیکھتے رہے پیش نظر جہاں کے رہی رحمت خدا ہم برہمیٔ حسن بتاں دیکھتے رہے ہر گل ہماری عقل پہ ہنستا رہا مگر ہم فصل گل میں رنگ خزاں دیکھتے رہے عرض نیاز شوق کی اچھی ملی یہ داد ہنس کر وہ میرے اشک رواں دیکھتے رہے طے کر گیا جنوں مرا اک ...

مزید پڑھیے

خانۂ دل میں داغ جل نہ سکا

خانۂ دل میں داغ جل نہ سکا اس میں کوئی چراغ جل نہ سکا نہ ہوئے وہ شریک سوز نہاں دل سے دل کا چراغ جل نہ سکا سوز الفت سے عقل ہے محفوظ جل گیا دل دماغ جل نہ سکا برق تھا اضطراب دل لیکن آرزوؤں کا باغ جل نہ سکا دل مایوس میں امید کہاں بجھ کے پھر یہ چراغ جل نہ سکا روشنیٔ شعور بھی آئی پھر ...

مزید پڑھیے

کھنچ کے محبوب کے دامن کی طرف

کھنچ کے محبوب کے دامن کی طرف آ گئے اور بھی الجھن کی طرف تم چھپاتے رہو کتنا اس کو بجلیاں آئیں گی خرمن کی طرف ہر طرف نور کا تڑکا دیکھا کون آیا مرے آنگن کی طرف اے چمن والو رکوں یا جاؤں اک دھواں سا ہے نشیمن کی طرف خیر مقدم کو جھکیں گی شاخیں اک ذرا آؤ تو گلشن کی طرف عرشؔ کس دوست کو ...

مزید پڑھیے

بیاں ہوں بھی تو ہوں آخر کہاں جو دل کی باتیں ہیں

بیاں ہوں بھی تو ہوں آخر کہاں جو دل کی باتیں ہیں نہ تنہائی کی باتیں ہیں نہ یہ محفل کی باتیں ہیں مرتب کر لیا یوں ہم نے افسانہ محبت کا کچھ ان کے دل کی باتیں ہیں کچھ اپنے دل کی باتیں ہیں جو ان میں پھنس گیا پھر راہ پر وہ آ نہیں سکتا بڑے چکر کی باتیں رہبر منزل کی باتیں ہیں تمہارا وعظ ...

مزید پڑھیے

دل ہوتا ہے تسکین کے عالم میں حزیں اور

دل ہوتا ہے تسکین کے عالم میں حزیں اور لے چل مجھے اے شوق سبک گام کہیں اور ہاں اور اٹھا پردے کو اے پردہ نشیں اور مجھ سا نہیں کوئی ترے جلووں کا امیں اور جتنی وہ مرے حال پہ کرتے ہیں جفائیں آتا ہے مجھے ان کی محبت کا یقیں اور مے خانہ کی ہے شان اسی شور طلب سے ہاں اور نہیں پر ہے تقاضا کہ ...

مزید پڑھیے

کیا چارہ کریں کیا صبر کریں جب چین ہمیں دن رات نہیں

کیا چارہ کریں کیا صبر کریں جب چین ہمیں دن رات نہیں یہ اپنے بس کا روگ نہیں یہ اپنے بس کی بات نہیں جو اس نے کیا اچھا ہی کیا جو ہم پہ ہوا اچھا ہی ہوا اب گریہ و غم کچھ چیز نہیں اب نالۂ غم کچھ بات نہیں ہم صبر و رضا کے بندے ہیں جو تم نے کیا سب جھیل لیا اب دل میں بھی افسوس نہیں اب لب پر بھی ...

مزید پڑھیے

سب دیکھنے والے انہیں غش کھائے ہوئے ہیں

سب دیکھنے والے انہیں غش کھائے ہوئے ہیں اس پر بھی تعجب ہے وہ شرمائے ہوئے ہیں اے جان جہاں ہم کو زمانے سے غرض کیا جب کھو کے زمانے کو تجھے پائے ہوئے ہیں حیران ہوں کیوں مجھ کو دکھائی نہیں دیتے سنتا ہوں مری بزم میں وہ آئے ہوئے ہیں نسبت کی یہ نسبت ہے شرف کا یہ شرف ہے ترے ہیں اگر ہم ترے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3997 سے 4657