شاعری

سیم تن گل رخوں کی بستی ہے

سیم تن گل رخوں کی بستی ہے یہ بدلتی رتوں کی بستی ہے کون سمجھے سکوت کی باتیں شہر خاموشیوں کی بستی ہے یہ لکیریں غموں کے رستے ہیں یہ ہتھیلی دکھوں کی بستی ہے زندگی تک زکوٰۃ ٹھہرا دی یہ میرے رازقوں کی بستی ہے آسماں کی طرح ہے ساتھ کوئی ہجر بھی قربتوں کی بستی ہے وہ تلاطم شعار کیا ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی کہو سب اپنی اناؤں پہ اڑے ہیں

کچھ بھی کہو سب اپنی اناؤں پہ اڑے ہیں سب لوگ یہاں صورت اصنام کھڑے ہیں جو پار اترتا گیا ہوتا گیا کم تر ہم دورئ منزل کے طفیل آج بڑے ہیں ہم کو نہ کہو قانع حالات کہ ہم لوگ زندانیٔ دہلیز کے منصب پہ کھڑے ہیں اے وصل نصیبو! ہمیں مڑ کر بھی نہ دیکھا ہم قفل کے مانند مصائب پہ پڑے ہیں تاریخ ...

مزید پڑھیے

نہ ہوتا دہر سے جو بے نیاز کیا کرتا

نہ ہوتا دہر سے جو بے نیاز کیا کرتا کھلا تھا مجھ پہ کچھ ایسا ہی راز کیا کرتا مریض کشمکش جبر و اختیار میں تھا علاج جذب و کشش چارہ ساز کیا کرتا ترے کرم نے تو دنیا ہی سونپ دی تھی مجھے بچا کے کچھ نہ رکھا حرص و آز کیا کرتا بگڑ گیا مرا حلیہ تو برہمی کیسی تھے رہ گزر میں نشیب و فراز کیا ...

مزید پڑھیے

میں چپ ہوں اور دنیا سن رہی ہے

میں چپ ہوں اور دنیا سن رہی ہے خموشی داستانیں بن رہی ہے تعجب ہے کہ اک سونے کی چڑیا بیابانوں میں تنکے چن رہی ہے کہاں نیکی گناہوں سے ہی بچ لیں ہمیں تو بس یہی اک دھن رہی ہے تجھے محسوس کرتے بھی تو کیسے چھٹی حس بھی ہماری سن رہی ہے میں اس بستی کا باشندہ تھا یا رب جہاں سچائی بھی اوگن ...

مزید پڑھیے

میں سوچتا تو ہوں لیکن یہ بات کس سے کہوں

میں سوچتا تو ہوں لیکن یہ بات کس سے کہوں وہ آئنہ میں جو اترے تو میں سنور جاؤں خود اپنے آپ سے وحشت سی ہو رہی ہے مجھے بچھڑ کے تجھ سے میں اک مستقل عذاب میں ہوں ہر ایک لمحہ بھنور ہے ہر ایک پل طوفاں کہاں تک اور میں ساحل کی جستجو میں بڑھوں مرے وجود نے کیا کیا لباس بدلے ہیں کہیں چراغ ...

مزید پڑھیے

حیران ہوں نصیب کی بخشش کو دیکھ کر

حیران ہوں نصیب کی بخشش کو دیکھ کر سائے سے اپنے دھوپ میں محروم ہیں شجر قبضے میں اپنے ہوتی فضاؤں کی مملکت اڑتے اگر ہواؤں کی رفتار دیکھ کر ان سے ملے تو خود سے بھی پہچان ہو گئی ورنہ ہم اپنی ذات سے اب تک تھے بے خبر ہر ٹکڑے میں بس ایک ہی تصویر پاؤ گے دیکھو تو اپنی ذات کا آئینہ توڑ ...

مزید پڑھیے

تیشہ بدست آ مرے آذر تراش دے

تیشہ بدست آ مرے آذر تراش دے بے ڈول ہے بہت مرا پیکر تراش دے گر قمریوں کے نغمے گراں بار ہیں تجھے اس رت میں سارے سرو صنوبر تراش دے یوں اڑ گئی ہے بوئے وفا اس کی ذات سے جس طرح کوئی شاخ گل تر تراش دے اڑنا اگر ہے باد مخالف کا دھیان رکھ ایسا نہ ہو کہ تیز ہوا پر تراش دے کیا موم کے بدن کی ...

مزید پڑھیے

اب زرد لبادے بھی نہیں خشک شجر پر

اب زرد لبادے بھی نہیں خشک شجر پر جس سمت نظر اٹھتی ہے بے رنگ ہے منظر اترے ہیں مری آنکھوں میں جلوؤں کے صحیفے خوابوں کا فرشتہ ہوں میں غزلوں کا پیمبر بیتے ہوئے لمحوں سے ملاقات اگر ہو لے آنا ہواؤ ذرا اک بار مرے گھر اتراؤ نہ مستی میں جواں سال پرندو پروائی کے جھونکوں سے بھی کٹ جاتے ...

مزید پڑھیے

دے کے چبھتے ہوئے سوال ہوا

دے کے چبھتے ہوئے سوال ہوا لے گئی میرے تیس سال ہوا پاؤں دھرتی سے اٹھ رہے ہیں مرے ہو سکے تو مجھے سنبھال ہوا اور پھونکے گا بستیاں کتنی آگ سے تیرا اتصال ہوا تو کہ جلتے دیے بجھاتی ہے میرے زخموں کا اندمال ہوا وہ تو کہئے کہ تیرا جسم نہیں تو بھی ہو جاتی پائمال ہوا لوح مرقد پہ آب زر سے ...

مزید پڑھیے

اٹھاؤ سنگ کہ ہم میں سنک بہت ہے ابھی

اٹھاؤ سنگ کہ ہم میں سنک بہت ہے ابھی ہمارے گرم لہو میں نمک بہت ہے ابھی اتر رہی ہے اگر چاندنی اترنے دے مہکتی زلف میں تیری چمک بہت ہے ابھی یہ کل کسی نئے موسم کی فصل کاٹیں گے سروں میں اہل جنوں کے ٹھنک بہت ہے ابھی اسے خبر نہیں سورج بھی ڈوب جاتا ہے حسیں لباس پہ نازاں دھنک بہت ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3955 سے 4657