شاعری

زرد پتوں پہ مرا نام لکھا ہے اس نے

زرد پتوں پہ مرا نام لکھا ہے اس نے سبز خوابوں کا یہ انجام لکھا ہے اس نے کوئی ملتا نہیں جو پڑھ کے سنا دے مجھ کو برگ گل پر کوئی پیغام لکھا ہے اس نے سچ ہے تنہائی میں انسان سنک جاتا ہے روز روشن کو سیہ فام لکھا ہے اس نے مہر و مہ دیپ ہوا ابر سمندر خوشبو کس کی تقدیر میں آرام لکھا ہے اس ...

مزید پڑھیے

شہر میرا حجرۂ آفات ہے

شہر میرا حجرۂ آفات ہے سر پہ سورج اور گھر میں رات ہے سرخ تھے چہرے بدن شاداب تھے یہ ابھی دو چار دن کی بات ہے پھوٹنے ہی والا ہے چشمہ یہاں ساری دنیا عرصۂ عرفات ہے وہ تو ہے بے چین ملنے کے لئے درمیاں خود میری اپنی ذات ہے میں ہوں انجمؔ آفات نیم شب مجھ سے برگشتہ اندھیری رات ہے

مزید پڑھیے

خشک مٹی میں لہو کی جو نمی آئے گی

خشک مٹی میں لہو کی جو نمی آئے گی دیکھنا باغ میں پھر سبز پری آئے گی کٹ گئی عمر اسی دھن میں سفر کرتے ہوئے دو قدم اور ابھی چھاؤں گھنی آئے گی سچے الفاظ برتنے لگے اشعار میں ہم اپنے حصے میں بھی ہیرے کی کنی آئے گی دم بدم خوں کی روانی میں بھنور پڑتے ہیں ایسا لگتا ہے کوئی سخت گھڑی آئے ...

مزید پڑھیے

زرد موسم کے اک شجر جیسی

زرد موسم کے اک شجر جیسی ساری بستی ہے میرے گھر جیسی جب بگڑتا ہے وقت انساں کا چھپکلی لگتی ہے مگر جیسی سانس جیسے سفر میں ہے راہی اپنی کایا ہے رہ گزر جیسی چھوٹ جاتا ہے رنگ چھونے سے خواہشیں تتلیوں کے پر جیسی اور کیا ہم غریب رکھتے ہیں ایک دولت ہے بس ہنر جیسی زندگی آج کے زمانے ...

مزید پڑھیے

متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں

متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیں جسے سب درد کہتے ہیں اسے ہم دل سمجھتے ہیں اسی سے دل اسی سے زندگی دل سمجھتے ہیں مگر حاصل سے بڑھ کر سعی بے حاصل سمجھتے ہیں کبھی سنتے تھے ہم یہ زندگی ہے وہم و بے معنی مگر اب موت کو بھی خطرۂ باطل سمجھتے ہیں بہت سمجھے ہوئے ہے شیخ راہ و رسم منزل ...

مزید پڑھیے

گردش دوراں سے یہاں کس کو فراغ آیا ہے ہاتھ

گردش دوراں سے یہاں کس کو فراغ آیا ہے ہاتھ ہاں مگر آیا تو اک حسرت کا داغ آیا ہے ہاتھ نوحہ سنجی کی بھی مہلت عندلیبوں میں نہیں باغباں قسمت سے کیا ہے بے دماغ آیا ہے ہاتھ عمر گزری جستجوے کوچۂ دلدار میں وائے ناکامی پس از مردن سراغ آیا ہے ہاتھ دل کے داغوں نے کیا ہم کو چمن سے بے ...

مزید پڑھیے

وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیں

وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیں ہم یہاں عیش کا سامان کئے بیٹھے ہیں زہر کھا لیں گے شب وعدہ نہ آؤ گے اگر اپنی مشکل کو ہم آسان کئے بیٹھے ہیں کل شب وصل تھی سب عیش میسر تھے ہمیں آج ہم چاک گریبان کئے بیٹھے ہیں عشق پردے میں رہے کب تلک اے جوش جنوں ہم بھی طوفان کا سامان کئے بیٹھے ...

مزید پڑھیے

لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میں

لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میں یہی تو رہزنوں میں ہیں یہی ہیں دل کے چوروں میں پڑے رہتے ہیں اکثر سوئے مشکیں روئے جاناں پر بہت دیکھا ہے ہم نے اتفاق ان کالے گوروں میں لگائی آگ ان کے حسن عالم سوز نے ہر سو جلانے چو لکھا بیٹھے ہیں یوں کورے سکوروں میں وفور صحبت اغیار سے ...

مزید پڑھیے

رہی ان کی چین جبیں دیر تک

رہی ان کی چین جبیں دیر تک چڑھایا کئے آستیں دیر تک اڑاتی رہی خاکساروں کی خاک تمہاری گلی کی زمیں دیر تک کسی کے جو آنے کی امید تھی رہی لب پہ جان حزیں دیر تک رہی دیکھ کر نقشۂ کوئے یار تحیر میں خلد بریں دیر تک وہ نیرنگیاں میرے رونے میں تھیں کہ ہنستے رہے سب حسیں دیر تک

مزید پڑھیے

تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئے

تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئے کوئی پوچھے سبب تو کیا کہئے ہم سے کچھ وقت پر نہ بن آئی لے گئے دل وہ مفت کیا کہئے مجھ کو سمجھا کے گالیاں دیجے فقرہ فقرہ جدا جدا کہئے نہ میں عاشق نہ آپ کو کیا ہوں غیر سے اپنا مدعا کہئے جان دیتا ہوں کس خوشی سے میں آج تو آپ مرحبا کہئے آئنہ میں دکھا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3956 سے 4657