شاعری

رات آئی تو تڑپنے کے بہانے آئے

رات آئی تو تڑپنے کے بہانے آئے اشک آنکھوں میں تو ہونٹوں پہ ترانے آئے پھر تصور میں ہی ہم روٹھ کے بدلے پہلو پھر خیالوں میں ہی وہ ہم کو منانے آئے ان کے کوچے میں جو اک عمر گزاری ہم نے یہ کہانی بھی وہ غیروں کو سنانے آئے یہ بھی سچ ہے کہ ہر زخم ملا ہے ان سے اور وہی چپکے سے مرہم بھی لگانے ...

مزید پڑھیے

گزشتہ خواب کے منظر ستانے لگتے ہیں

گزشتہ خواب کے منظر ستانے لگتے ہیں بھلائیں کیسے وہ آنکھوں میں آنے لگتے ہیں لرزتے کانپتے ہونٹوں پہ اس کے نام مرا یہ بات مجھ سے وہ اکثر چھپانے لگتے ہیں بھلاؤں کیسے میں بیتے دنوں کی یاد بھلا کتاب دل کے ورق پھڑپھڑانے لگتے ہیں بہار آنے کو آئی ہے گلستاں میں مگر یہ پھول پھول بدن دل ...

مزید پڑھیے

تجھے ہر گلی ہر نگر ڈھونڈتے ہیں

تجھے ہر گلی ہر نگر ڈھونڈتے ہیں نہیں کچھ بھی حاصل مگر ڈھونڈتے ہیں بنا دے جو صحرا کو پھر سے گلستاں ہم ایسی نسیم سحر ڈھونڈتے ہیں لٹے آشیانوں کے آوارہ پنچھی نہ جانے کہاں اپنا گھر ڈھونڈتے ہیں ہر اک درد دل کو زباں دے سکے جو ہم اشکوں میں بس وہ اثر ڈھونڈتے ہیں نئے دور کا ہے مقدر ...

مزید پڑھیے

ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے

ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے ملنا تھا اس لئے بھی سنورنا پڑا مجھے آمد پہ اس کی پھول کی صورت تمام رات ایک اس کی رہ گزر پہ بکھرنا پڑا مجھے کیسی یہ زندگی نے لگائی عجیب شرط جینے کی آرزو لئے مرنا پڑا مجھے ایسے تو میری راہوں میں پڑے تھے میکدے واعظ تیری نگاہوں سے ڈرنا پڑا ...

مزید پڑھیے

جانے اپنے سائے سے کیوں آج مجھے ڈر لگتا ہے

جانے اپنے سائے سے کیوں آج مجھے ڈر لگتا ہے جلا ہوا اس شہر کا ہر گھر اپنا ہی گھر لگتا ہے کچھ اتنا چہرہ ٹوٹا ہے گھاؤ کچھ اتنے کھائے ہیں پھول بھی اس کے ہاتھوں کا اب مجھ کو پتھر لگتا ہے جس سے اس ننھے بچے کی ماں بہنوں کا قتل ہوا موسم گل کا ہر اک منظر خونی منظر لگتا ہے ویسے تو وہ میرا ...

مزید پڑھیے

دیر و حرم بھی آئے کئی اس سفر کے بیچ

دیر و حرم بھی آئے کئی اس سفر کے بیچ میری جبین شوق ترے سنگ در کے بیچ کچھ لذت گناہ بھی ہے کچھ خدا کا خوف انسان جی رہا ہے اسی خیر و شر کے بیچ یہ خواہش وصال ہے یا ہجر کا سلوک چٹکی سی لی ہے درد نے آ کر جگر کے بیچ بچھڑے تو یہ ملال کی سوغات بھی ملی تاکید تھی خیال نہ آئے سفر کے بیچ خوشبو ...

مزید پڑھیے

ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے

ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے ملنا تھا اس لئے بھی سنورنا پڑا مجھے آمد پہ اس کی پھول کی صورت تمام رات ایک اس کی رہ گزر پہ بکھرنا پڑا مجھے کیسی یہ زندگی نے لگائی عجیب شرط جینے کی آرزو لئے مرنا پڑا مجھے ویسے تو میری راہوں میں پڑتے تھے میکدے واعظ تری نگاہ سے ڈرنا پڑا ...

مزید پڑھیے

ہماری اس سے جو صورت ہوئی صفائی کی

ہماری اس سے جو صورت ہوئی صفائی کی ہجوم غم نے عدو پر بڑی چڑھائی کی فقیر مست ترے حال وصل کیا جانیں کہ اوڑھے بیٹھے ہیں کملی شب جدائی کی گدائے کوچۂ جاناں ہوں مرتبہ ہے بڑا کہ میرے نام ہے جاگیر بے نوائی کی ہمیں تو عالم ہستی میں اک نکمے ہیں تمہیں میں آ گئیں سب خوبیاں خدائی کی ملے نہ ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا

کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوا فکر درماں نہ ہوئی رنج مداوا نہ ہوا واہ اس نالہ پہ اور اتنی عدو کو نازش بزم میں اور تو کیا حشر بھی برپا نہ ہوا سیر گلشن سے رہے شاد ولیکن افسوس اب کے معلوم کچھ احوال قفس کا نہ ہوا سو گئے سنتے ہی سنتے وہ دل زار کا حال جب کو ہم سمجھے تھے افسوں وہی ...

مزید پڑھیے

بات بے بات الجھتے ہو بھلا بات ہے کیا

بات بے بات الجھتے ہو بھلا بات ہے کیا میرے اندر کی بلاؤں سے ملاقات ہے کیا ہم تو اس پستئ احساس پہ جیتے ہیں جہاں یہ بھی معلوم نہیں جیت ہے کیا مات ہے کیا دھند میں ڈوب گیا دل کا محدب عدسہ کون بتلائے سر ارض و سموات ہے کیا درد کا غار حرا دل میں کیا ہے تعمیر مجھ کو معلوم نہیں طرز عبادات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3954 سے 4657