شاعری

اب کوئی جیت نہیں ہار نہیں کچھ بھی نہیں

اب کوئی جیت نہیں ہار نہیں کچھ بھی نہیں میں جہاں ہوں وہاں سنسار نہیں کچھ بھی نہیں ایک عالم کی خبر مجھ کو ہوئی جاتی ہے میں خبردار نہ ہشیار نہیں کچھ بھی نہیں ایک جیسے ہیں مگر پھر بھی جدا ہیں سارے درمیاں ہے کوئی دیوار نہیں کچھ بھی نہیں میرے بچو مری یہ بات سدا یاد رہے آدمی کا کوئی ...

مزید پڑھیے

اک بہانہ ہے تجھے یاد کئے جانے کا

اک بہانہ ہے تجھے یاد کئے جانے کا کب سلیقہ ہے مجھے ورنہ غزل گانے کا پھر سے بکھری ہے تری زلف مرے شانوں پر وقت آیا ہے گئے وقت کو لوٹانے کا جس کی تعبیر عطا کر دے مجھے وہ زلفیں کون کہتا ہے کہ وہ خواب ہے دیوانے کا پینے والے تو تجھے آنکھ سے پی لیتے ہیں وہ تکلف ہی نہیں کرتے ہیں پیمانے ...

مزید پڑھیے

شدت اظہار مضموں سے ہے گھبرائی ہوئی

شدت اظہار مضموں سے ہے گھبرائی ہوئی تیری بے عنواں کہانی لب پہ شرمائی ہوئی میں سراپا جرم جنت سے نکالا تو گیا ڈرتے ڈرتے پوچھتا ہوں کس کی رسوائی ہوئی ایک سناٹا ہے دل میں اک تصور آپ کا اک قیامت پر قیامت دوسری آئی ہوئی امتیاز صورت و معنی کے پردے چاک ہیں یا ترے چہرے پہ مستی کی گھٹا ...

مزید پڑھیے

پھول ہونٹوں کو غزل خواں دیکھنا

پھول ہونٹوں کو غزل خواں دیکھنا مجھ کو بہکانے کے ساماں دیکھنا دیکھنا دل کے در و دیوار پر چاند چہروں کا چراغاں دیکھنا گل لبوں سے کی ہے میں نے گفتگو میرے ہونٹوں پر گلستاں دیکھنا زلف لہرا کے مرے دل میں ذرا خواہشوں کا ایک طوفاں دیکھنا اس کو پا لینا تو پھر میری طرح خود کو خود اپنا ...

مزید پڑھیے

گماں مجھ کو تھا انساں ہو گیا ہوں

گماں مجھ کو تھا انساں ہو گیا ہوں خبر کیا تھی میں شیطاں ہو گیا ہوں ہوا کچھ اس طرح کی چل رہی ہے بہت اندر سے ویراں ہو گیا ہوں اچانک دوست ہندو ہو گئے ہیں اچانک میں مسلماں ہو گیا ہوں جسے دیکھو وہی سمجھا رہا ہے بڑی مشکل ہے آساں ہو گیا ہوں سفر سے لوٹ کر آیا تو پایا میں اپنے گھر میں ...

مزید پڑھیے

بے طلب کر کے ضرورت بھی چلی جائے اگر

بے طلب کر کے ضرورت بھی چلی جائے اگر ڈر رہی ہوں کہ یہ وحشت بھی چلی جائے اگر شام ہوتے ہی ستاروں سے یہ پوچھا اکثر شام ہونے کی یہ صورت بھی چلی جائے اگر اک ترا درد سلیقے سے سنبھالا لیکن دیدۂ تر سے طراوت بھی چلی جائے اگر یہ تو ہے خون جگر چاہئے لیکن اے دل شعر کہنے کی رعایت بھی چلی جائے ...

مزید پڑھیے

کاوش روزگار نے عمر رواں کو کھا لیا

کاوش روزگار نے عمر رواں کو کھا لیا دشت سکوت نے مرے زمزمہ خواں کو کھا لیا ہائے وہ صبح بے بسی ہائے وہ شام بے کسی ساعت بد نے اس دفعہ آزردگاں کو کھا لیا تذکرے رہ گئے فقط وہ بھی ہیں کتنی دیر تک تو نے سکوت بے کراں حرف و بیاں کو کھا لیا کاسۂ وقت میں کوئی سکۂ روز و شب کہاں باد فنا نے ...

مزید پڑھیے

لوگ بازار میں پھرتے ہیں ضرورت کے بغیر

لوگ بازار میں پھرتے ہیں ضرورت کے بغیر دل اسی واسطے بک جاتا ہے قیمت کے بغیر میں ادھوری ہی رہی عشق بھی پورا نہ ہوا عالم کن ہے یہ تکمیل کی صورت کے بغیر ہر تمنا کے بگولے سے صدا آتی ہے آپ کیوں آئے تھے اس دشت میں وحشت کے بغیر آئینہ خانے سے کچھ بھی نہیں مل پایا مجھے میں نے جب دیکھنا ...

مزید پڑھیے

ہم سے آشفتہ مزاجوں کا پتہ پوچھتی ہے

ہم سے آشفتہ مزاجوں کا پتہ پوچھتی ہے کتنے باقی ہیں دیے روز ہوا پوچھتی ہے روز کلیوں کو کھلاتے ہوئے کرتی ہے سوال کس کے دامن کی مہک ہے یہ صبا پوچھتی ہے کس جگہ تجھ کو ٹھہرنا ہے تمنائے جہاں لڑکھڑاتے ہوئے یہ لغزش پا پوچھتی ہے تشنگی اور ہے صحرائے تمنا کتنی جو برستی نہیں کھل کے وہ گھٹا ...

مزید پڑھیے

دن کا راجا ہوتا ہے اور رات کی رانی ہوتی ہے

دن کا راجا ہوتا ہے اور رات کی رانی ہوتی ہے ہر خوشبو کی اپنی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے پہلے اک اک خواب سے ہم تعمیر تمنا کرتے ہیں پھر دل میں تعبیر کی خود ہی خاک اڑائی ہوتی ہے پہلا شگوفہ حیرت کا دنیا کو دیکھ کے پھوٹا تھا اس کے بعد تو جیون بھر خود پر حیرانی ہوتی ہے رات اماوس کی ہے سر پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 392 سے 4657