ہوئے ہو کس لئے برہم عزیزم
ہوئے ہو کس لئے برہم عزیزم سر تسلیم ہے لو خم عزیزم چراغ حجرۂ جاں کی خبر لو لبوں پر آ گیا ہے دم عزیزم نہیں بھرتا یہ زخم ہجر اپنا لگاؤ وصل کا مرہم عزیزم تم آتے ہو تو دم آتا ہے گویا تم آتے ہو مگر کم کم عزیزم نبود و بود کی اس کشمکش میں عجب ہے حالت پیہم عزیزم تو ہی تو ہے میں قطرہ تو ...