شاعری

نہیں ہے یوں کے دما دم ہوا نے رقص کیا

نہیں ہے یوں کے دما دم ہوا نے رقص کیا شدید حبس تھا کم کم ہوا نے رقص کیا بس ایک میں ہی وہاں پر طواف میں تو نہ تھا درون شہر مکرم ہوا نے رقص کیا چراغ قتل ہوا تو خوشی سے مقتل میں لگا کے نعرۂ رقصم ہوا نے رقص کیا تمام دن کی تمازت کے بعد رات گئے گری جو پھول پہ شبنم ہوا نے رقص کیا سمندروں ...

مزید پڑھیے

زمیں کے زخم کو پہلے رفو کیا جائے

زمیں کے زخم کو پہلے رفو کیا جائے پھر اس کے بعد دریدہ فلک سیا جائے ہمارا عکس اگر درمیاں نہ حائل ہو تو آئنے کو گلے سے لگا لیا جائے یہ زندگی تو پرانی شراب جیسی ہے یہ کڑوا گھونٹ ہے لیکن اسے پیا جائے جو رفتگاں ہیں انہیں لوٹ کر نہیں آنا اب انتظار کا بستر اٹھا دیا جائے تمہاری یاد نے ...

مزید پڑھیے

خدا سے مشورہ مانگا ہے تیرے بارے میں

خدا سے مشورہ مانگا ہے تیرے بارے میں کوئی اشارہ تو اب ہوگا استخارے میں یہ میری سانس جو چاہے خرید سکتا ہے میں بھر کے بیچ رہا ہوں اسے غبارے میں جو بات بات پہ دیوار رونے لگتی ہے کسی کا خون ملایا ہے تو نے گارے میں وہ اک چراغ جو آیا ہے میرے حصے میں وہ جل رہا ہے کسی دوسرے ستارے میں پتا ...

مزید پڑھیے

کہاں کسی کو دکھائی گئی ہے خاموشی

کہاں کسی کو دکھائی گئی ہے خاموشی بغیر جسم بنائی گئی ہے خاموشی تضاد یہ ہے بنا کر کھنکتی مٹی سے مرے لہو میں ملائی گئی ہے خاموشی بلا کا شور انڈیلا گیا ہے کانوں میں مگر زباں کو سکھائی گئی ہے خاموشی زمیں پہ اس کا گزارا نہیں تھا اس باعث خلا کے بیچ بسائی گئی ہے خاموشی کچھ اس لیے بھی ...

مزید پڑھیے

نگاہ یار سے ہوتا ہے وہ خمار مجھے

نگاہ یار سے ہوتا ہے وہ خمار مجھے کہ رت خزاں کی بھی لگنے لگے بہار مجھے فصیل عشق پہ رکھا ہوا چراغ ہوں میں ہوائے ہجر کا رہتا ہے انتظار مجھے جدائیاں ہیں مقدر تو پھر گلے کیسے لکھے ہوئے پہ تجھے ہے نا اختیار مجھے فقط زباں سے نا کہہ مجھ کو زندگی اپنی میں زندگی ہوں تو اچھی طرح گزار ...

مزید پڑھیے

ان کو سب لگتے ہیں چہرے خوب صورت

ان کو سب لگتے ہیں چہرے خوب صورت جن کے لگتے ہیں نظریے خوب صورت جی میں آتا ہے جلا دوں اپنی غزلیں شعر وہ کہتا ہے اتنے خوب صورت چاہت ارماں آرزو خواہش تمنا اک بلا کے نام کتنے خوب صورت اوہ اچھا عکس تھا کل شب تمہارا یعنی وہ تمہی تھے تم سے خوب صورت

مزید پڑھیے

بتائیں کیا کہ کتنا جانتے ہیں

بتائیں کیا کہ کتنا جانتے ہیں تمہیں تم سے زیادہ جانتے ہیں خموشی سے عیاں ہوتا ہے ان کی وہ اپنی بات کہنا جانتے ہیں بہت پڑھ کر ہوا یہ علم ہم کو کہ ہم کتنا ذرا سا جنتے ہیں قلم کاغذ ہمارے شیر اور تم اسے ہم اپنی دنیا جانتے ہیں ہم آ جاتے ہیں اکثر اپنے آگے مگر ہم بچ نکلنا جانتے ...

مزید پڑھیے

لفظ خوشبو میں ڈھالتا منظر

لفظ خوشبو میں ڈھالتا منظر لیجئے شعر بن گیا منظر کیسا سندر تھا اک زمانے میں تیری آنکھوں میں ڈوبتا منظر رنگ موسم سے اڑ گئے سارے کینوس پر پڑا رہا منظر آپ کا جسم بھی ہے مٹی کا ایک نازک سا بھربھرا منظر مجھ کو حیرت سے مار ڈالے گا آئنے میں سجا ہوا منظر آہ کمرے میں جاگتے رہنا آہ ...

مزید پڑھیے

ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا

ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا مگر کوئی بہانہ چاہیے تھا محبت ریل کی پٹری نہیں تھی کہیں تو موڑ آنا چاہیے تھا ترے کاندھے پہ رکھ کر سر کسی دن ہمیں بھی بھول جانا چاہیے تھا مری لغزش خدا سے کیوں شکایت ارے مجھ کو بتانا چاہیے تھا یہ تم نے خود کو پتھر کر لیا کیوں مری جاں ٹوٹ جانا چاہیے ...

مزید پڑھیے

کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات

کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات چھپ کے بانہوں میں سو رہی ہے رات دکھ ہے ٹھہرا ہوا نگاہوں میں تیری یادیں بلو رہی ہے رات مجھ کو خوابوں کے باغ میں لا کر گھنے جنگل میں کھو رہی ہے رات روشنی نے لگائے جو الزام بہتی آنکھوں سے دھو رہی ہے رات اس کو بانہوں میں بھر رہی ہوں میں چاند خود میں سمو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3917 سے 4657