شاعری

بجھی ہے آتش رنگ بہار آہستہ آہستہ

بجھی ہے آتش رنگ بہار آہستہ آہستہ گرے ہیں شعلۂ گل سے شرار آہستہ آہستہ وہ اک قطرہ کہ برگ دل پہ شبنم سا لرزتا تھا ہوا ہے بحر نا پیدا کنار آہستہ آہستہ کبھی شور قیامت گوش انساں تک بھی پہنچے گا کوئی سیارہ بدلے گا مدار آہستہ آہستہ اڑا ہے رفتہ رفتہ رنگ تصویر محبت کا ہوئی ہے رسم الفت بے ...

مزید پڑھیے

کار اہل وفا جہد و تسلیم ہے ہم بھی تسلیم میں کیا تأمل کریں

کار اہل وفا جہد و تسلیم ہے ہم بھی تسلیم میں کیا تأمل کریں ذات کے دشت کتنے ہی درپیش ہیں کیا کریں گے اگر پھر تساہل کریں اے صریر قلم اے ضمیر جہاں آپ اپنی زباں میں جو لکھنا ہو لکھ کتنے احوال ہیں نا نوشتہ ابھی کیا مناسب ہے ان سے تغافل کریں ہم پریشان و آشفتہ لوگوں میں بھی اک زمانہ ہوا ...

مزید پڑھیے

مجھے تو یہ بھی فریب حواس لگتا ہے

مجھے تو یہ بھی فریب حواس لگتا ہے وگرنہ کون اندھیروں میں ساتھ چلتا ہے بکھر چکی جرس کاروان گل کی صدا اب اس کے بعد تو واماندگی کا وقفہ ہے جو دیکھیے تو سبھی کارواں میں شامل ہیں جو سوچئے تو سفر میں ہر ایک تنہا ہے کسے خبر کہ یہ دوری کا بھید کیا شے ہے قدم اٹھاؤ تو رستہ بھی ساتھ چلتا ...

مزید پڑھیے

غبار احساس پیش و پس کی اگر یہ باریک تہ ہٹائیں

غبار احساس پیش و پس کی اگر یہ باریک تہ ہٹائیں تو ایک پل میں نہ جانے کتنے زمانوں کے عکس تھرتھرائیں خزاں اگر اپنا خوں نہ بخشے تو فصل گل کیسے سرخ رو ہو سکوت اپنا جگر نہ چیرے تو کیسے جھنکار دیں صدائیں بکھر چلے ہیں بکھر چکے ہیں گل عبارت کے برگ ریزے کتاب جاں کی شہادتوں کا ورق ورق لے ...

مزید پڑھیے

لرز لرز کے دل ناتواں ٹھہر ہی نہ جائے

لرز لرز کے دل ناتواں ٹھہر ہی نہ جائے فراق ساز کہیں روح نغمہ مر ہی نہ جائے اتار لے کسی شیشے میں ساعت نغمہ صدائے قافلۂ گل کہیں بکھر ہی نہ جائے سنا بھی دے کسی گل کو فسون تنہائی رہ خیال سے یہ کارواں گزر ہی نہ جائے ہے ایک قلزم خوں قریۂ جنوں سے ادھر یہاں جو آئے کوئی اس کی پھر خبر ہی ...

مزید پڑھیے

عین ممکن ہے کسی طرز ادا میں آئے

عین ممکن ہے کسی طرز ادا میں آئے قصۂ درد وفا صوت و صدا میں آئے رت بدلتے ہی نئے رنگ کے منظر ابھرے کچھ پرندے بھی نئی موج ہوا میں آئے ہم تو آئینہ نما تھے ہی صفا کیشی میں نام کچھ اور بھی ارباب صفا میں آئے عشق تا حال تو متروک نہیں ہو پایا انقلابات بھی گو راہ وفا میں آئے کچھ گل نیلوفری ...

مزید پڑھیے

ہر شخص اس ہجوم میں تنہا دکھائی دے

ہر شخص اس ہجوم میں تنہا دکھائی دے دنیا بھی اک عجیب تماشا دکھائی دے اک عمر قطع وادیٔ شب میں گزر گئی اب تو کہیں سحر کا اجالا دکھائی دے اے موجۂ سراب تمنا ستم نہ کر صحرا ہی سامنے ہے تو صحرا دکھائی دے میں بھی چلا تو پیاس بجھانے کو تھا مگر ساحل کو دیکھتا ہوں کہ پیاسا دکھائی ...

مزید پڑھیے

خفا نہ ہو کہ ترا حسن ہی کچھ ایسا تھا

خفا نہ ہو کہ ترا حسن ہی کچھ ایسا تھا میں تجھ سے پیار نہ کرتا تو اور کیا کرتا ٹھہر کے سن تو سہی غم کی ڈوبتی آواز پلٹ کے دیکھ تو لے منظر شکست وفا تو خواب تھا تو مجھے نیند سے جگایا کیوں تو وہم تھا تو مرے ساتھ ساتھ کیوں نہ چلا کہاں کہاں لیے پھرتا کشاں کشاں مجھ کو لپٹ گیا ہے مرے پاؤں ...

مزید پڑھیے

کرب کی آگ میں دن رات پگھلتے رہئے

کرب کی آگ میں دن رات پگھلتے رہئے کروٹیں درد کے بستر پہ بدلتے رہئے کون آتا ہے یہاں کس کو ہے فرصت یارو جسم کی آگ میں خود اپنے ہی جلتے رہئے ان کو پانے کی تمنا تو ہے اک خواب حسین طفل نو عمر کی مانند مچلتے رہئے آبلہ پائی سے جل اٹھے ہوں ہر سمت چراغ جادۂ زیست پہ اس طرح سے چلتے ...

مزید پڑھیے

ابر ہر کھیت پہ ہر راہ گزر پر برسے

ابر ہر کھیت پہ ہر راہ گزر پر برسے غم وہ برکھا جو مری روح کے اندر برسے آئی ساون کی گھٹا گھر کے مگر جم نہ سکی اشک آنکھوں میں امنڈ آئے تو شب بھر برسے بزم میں ان پہ ہوئی لالہ و گل کی بارش اور مرے سر پہ جو برسے بھی تو پتھر برسے بیتے ساون میں یہ منظر بھی نظر سے گزرا سر بازار جب اولوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3910 سے 4657