بجھی ہے آتش رنگ بہار آہستہ آہستہ
بجھی ہے آتش رنگ بہار آہستہ آہستہ گرے ہیں شعلۂ گل سے شرار آہستہ آہستہ وہ اک قطرہ کہ برگ دل پہ شبنم سا لرزتا تھا ہوا ہے بحر نا پیدا کنار آہستہ آہستہ کبھی شور قیامت گوش انساں تک بھی پہنچے گا کوئی سیارہ بدلے گا مدار آہستہ آہستہ اڑا ہے رفتہ رفتہ رنگ تصویر محبت کا ہوئی ہے رسم الفت بے ...