شاعری

اپنے بھائی سے یہ غم خواری مثالی ہے مری

اپنے بھائی سے یہ غم خواری مثالی ہے مری اپنے حق سے دست برداری مثالی ہے مری اپنی بربادی کے کاغذ پر کئے ہیں دستخط سب قبیلے میں زیاں کاری مثالی ہے مری دشمنی کے قاعدوں سے نابلد ہوں میں مگر یہ سمجھ لیں آپ بھی یاری مثالی ہے مری چیتھڑوں کے روزنوں سے سرخیوں کی جھلکیاں سادگی میں ایسی ...

مزید پڑھیے

بزم سخن کو آپ کی دلگیر چل پڑے

بزم سخن کو آپ کی دلگیر چل پڑے غالبؔ کئی چلے ہیں کئی میرؔ چل پڑے جنت کی کیا بساط کہ وہ چل کے آئے گی میری طرف تو وادئ کشمیر چل پڑے حرکت میں آ گئے ہیں سبھی رنگ خال و خط ان کی نظر کے سحر سے تصویر چل پڑے دیکھا جو مجھ کو آپ کی پلکیں جھپک گئیں اک جسم ناتواں پہ کئی تیر چل پڑے قیدی رہا ...

مزید پڑھیے

اوجھل ہوئی نظر سے بے بال و پر گئی ہے

اوجھل ہوئی نظر سے بے بال و پر گئی ہے لفظوں کی بیکرانی بستوں میں بھر گئی ہے دیوار دل پہ اب تک ہم دیکھتے رہے ہیں تصویر کس کی لٹکی کس کی اتر گئی ہے اس کی گلی میں ہم پر پتھر برس پڑے تھے جیسا گزر ہوا تھا ویسی گزر گئی ہے جب ڈھونڈتے رہے تھے اتنی خبر نہیں تھی ہم میں کدھر سے آئی دنیا کدھر ...

مزید پڑھیے

غزل میں درد کا جادو مجھی کو ہونا تھا

غزل میں درد کا جادو مجھی کو ہونا تھا کہ دشت عشق میں باہو مجھی کو ہونا تھا اسے تو چاند بھی بے چارگی میں چھوڑ گیا اندھیری رات کا جگنو مجھی کو ہونا تھا ذرا سی بات پہ یہ جوگ کون لیتا ہے تمہارے پیار میں سادھو مجھی کو ہونا تھا بدن کے اور حوالے تو سب سلامت تھے مگر کٹا ہوا بازو مجھی کو ...

مزید پڑھیے

کسے مجال جو ٹوکے مری اڑانوں کو

کسے مجال جو ٹوکے مری اڑانوں کو میں خاکسار سمجھتا ہوں آسمانوں کو سند خلوص کی مانگے نہ مجھ سے مستقبل میں ساتھ لے کے چلا ہوں گئے زمانوں کو زمین بک گئی ساری عدو کے پاس مری دعائیں دیتا ہوں میں آپ کے لگانوں کو نظر کی حد میں سمٹ آئے اجنبی چہرے تلاش کرنے جو نکلا میں مہربانوں کو سمیٹ ...

مزید پڑھیے

دل کی موجوں کی تڑپ میری صدا میں آئے

دل کی موجوں کی تڑپ میری صدا میں آئے دائرے کرب کے پھیلے تو ہوا میں آئے میرے ہاتھوں ہی نے آئینہ دکھایا تھا مجھے کتنے مشکل تھے تقاضے جو دعا میں آئے ہم غریبی میں بھی معیار سفر رکھتے ہیں گرتے پڑتے ہی سہی اپنی انا میں آئے ان سے ہم شعر کی تاثیر بڑھا لیتے ہیں کیسے لہجے ترے آنچل کی ہوا ...

مزید پڑھیے

جھنکار ہے موجوں کی بہتے ہوئے پانی سے

جھنکار ہے موجوں کی بہتے ہوئے پانی سے زنجیر مچل جائے قدموں کی روانی سے اک موج صبا بھیجوں افکار کے زنداں کو جو لفظ چھڑا لائے پر پیچ معانی سے کتنی ہے پڑی مشکل دن پھرتے ہیں آخر میں میں نے یہ سبق سیکھا بچوں کی کہانی سے تفصیل سے لکھا تھا جب نامہ محبت کا غالبؔ کو غرض کیا تھی پیغام ...

مزید پڑھیے

اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرا نہ دے

اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرا نہ دے اے دل طلسم گنبد شب میں صدا نہ دے دیوار خستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگا میں گر پڑوں گا دیکھ مجھے آسرا نہ دے گل کر نہ دے چراغ وفا ہجر کی ہوا طول شب الم مجھے پتھر بنا نہ دے ہم سب اسیر دشت ہویدا ہیں دوستو ہم میں کوئی کسی کو کسی کا پتا نہ دے سب محو نقش ...

مزید پڑھیے

درس آداب جنوں یاد دلانے والے

درس آداب جنوں یاد دلانے والے آ گئے پھر مری زنجیر ہلانے والے کس طرح کھوئے گئے عکس رواں کی صورت شہر حیراں میں ترا کھوج لگانے والے غور سے دیکھ کوئی ہے پس تصویر خزاں ورنہ کس سمت گئے رنگ جمانے والے خم محراب پہ صدیوں کی سیہ گرد بھی دیکھ طاق ویراں میں لہو اپنا جلانے والے زہر اب زہر ...

مزید پڑھیے

میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں

میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں کون سا موڑ ہے کیوں پاؤں پکڑتی ہے زمیں اس کی بستی بھی نہیں کوئی پکارا بھی نہیں بے نیازی سے سبھی قریۂ جاں سے گزرے دیکھتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3909 سے 4657