شاعری

آنکھ سے آنسو ٹپکتا جائے ہے

آنکھ سے آنسو ٹپکتا جائے ہے ہر مسافر سر پٹکتا جائے ہے نازکی کیا کہئے نازک پھول کی بار شبنم سے لچکتا جائے ہے زخم دل ہم نے چھپایا تو مگر پھول کی صورت مہکتا جائے ہے کہہ رہا ہوں میں تو اپنی داستاں کیوں تمہارا دل دھڑکتا جائے ہے جب بجھانا چاہتا ہوں غم کی آگ اور بھی شعلہ بھڑکتا جائے ...

مزید پڑھیے

صہبا شگفتگی کی چھلکتی ضرور ہے

صہبا شگفتگی کی چھلکتی ضرور ہے کھلتی ہے جب کلی تو مہکتی ضرور ہے اٹھتی ہے جو بھی موج غم و اضطراب کی آنکھوں سے اشک بن کے ڈھلکتی ضرور ہے جو بے ثمر ہے اس کو یہ حاصل نہیں شرف پھل دار شاخ ہو تو لچکتی ضرور ہے ثابت یہ کر رہی ہے مری آہ آتشیں سینے میں غم کی آگ بھڑکتی ضرور ہے پا کر کسی کے ...

مزید پڑھیے

ہم انساں ہیں دل انساں کو تڑپانا نہیں آتا

ہم انساں ہیں دل انساں کو تڑپانا نہیں آتا کرم کی شان رکھتے ہیں ستم ڈھانا نہیں آتا مرے زخموں سے تم کب تک بچاؤ گے نظر اپنی یہ وہ غنچے ہیں جن کو کھل کے مرجھانا نہیں آتا کہوں کیسے کہ آنسو میری آنکھوں میں نہیں لیکن صدف کو گوہر نایاب بکھرانا نہیں آتا ہم اہل غم سدا سنگ الم سے کھیلتے ...

مزید پڑھیے

مرے اشکوں کی طغیانی سے پہلے

مرے اشکوں کی طغیانی سے پہلے رواں کشتی نہ تھی پانی سے پہلے ترستی تھیں نگاہیں روشنی کو چراغ بزم انسانی سے پہلے تڑپتا تھا سراپا درد بن کر چمن میری نگہبانی سے پہلے کسے حاصل تھی خوشبو عافیت کی ہماری بوئے سلطانی سے پہلے لہو انسانیت کے بہہ رہے تھے محبت کی جہاں بانی سے پہلے نہ سر ...

مزید پڑھیے

بہار میں بھی شگفتہ کوئی گلاب نہیں

بہار میں بھی شگفتہ کوئی گلاب نہیں شباب کا ہے زمانہ مگر شباب نہیں سحر تو آئی ہے پر صبح انقلاب نہیں یہ آفتاب کا دھوکا ہے آفتاب نہیں لہولہان چمن ہے تو دست پیاسا ہے کہاں کہاں پہ کرم آپ کا جناب نہیں خزاں کا دور تو گزرا خدا خدا کر کے بہار آئی تو مے خانے میں شراب نہیں عجیب ہے تری دریا ...

مزید پڑھیے

دشت و صحرا میں سمندر میں سفر ہے میرا

دشت و صحرا میں سمندر میں سفر ہے میرا رنگ پھیلا ہوا تاحد نظر ہے میرا نہیں معلوم، اسے اس کی خبر ہے کہ نہیں وہ کسی اور کا چہرہ ہے، مگر ہے میرا تو نے اس بار تو بس مار ہی ڈالا تھا مجھے میں ہوں زندہ تو مری جان ہنر ہے میرا آج تک اپنی ہی تردید کیے جاتا ہوں آج تک میرے خد و خال میں ڈر ہے ...

مزید پڑھیے

خاک چہرے پہ مل رہا ہوں میں

خاک چہرے پہ مل رہا ہوں میں آسماں سے نکل رہا ہوں میں چپکے چپکے وہ پڑھ رہا ہے مجھے دھیرے دھیرے بدل رہا ہوں میں میں نے سورج سے دوستی کی ہے شام ہوتے ہی ڈھل رہا ہوں میں ایک آتش کدہ ہے یہ دنیا جس میں صدیوں سے جل رہا ہوں میں راستوں نے قبائیں سی لی ہیں اب سفر کو مچل رہا ہوں میں اب مری ...

مزید پڑھیے

وقت کی آنکھ میں صدیوں کی تھکن ہے، میں ہوں

وقت کی آنکھ میں صدیوں کی تھکن ہے، میں ہوں دھول ہوتے ہوئے رستوں کا بدن ہے، میں ہوں پھر ترا شہر ابھر آیا ہے میرے ہر سو پھر وہی لوگ، وہی طرز سخن ہے، میں ہوں ایک تاریک ستارہ کا سفر ہے درپیش اور امید کی اک تازہ کرن ہے، میں ہوں ایک جنگل ہے، گھنے پیڑ ہیں، اک نہر ہے اور اک شکاری ہے، کوئی ...

مزید پڑھیے

کچھ دیر تو دنیا مرے پہلو میں کھڑی تھی

کچھ دیر تو دنیا مرے پہلو میں کھڑی تھی پھر تیر بنی اور کلیجے میں گڑی تھی آنکھوں کی فصیلوں سے لہو پھوٹ رہا تھا خوابوں کے جزیرے میں کوئی لاش پڑی تھی سب رنگ نکل آئے تھے تصویر سے باہر تصویر وہی جو مرے چہرے پہ جڑی تھی میں چاند ہتھیلی پہ لیے جھوم رہا تھا اور ٹوٹتے تاروں کی ہر اک سمت ...

مزید پڑھیے

وہ دکھ نصیب ہوئے خود کفیل ہونے میں

وہ دکھ نصیب ہوئے خود کفیل ہونے میں کہ عمر کٹ گئی خود کی دلیل ہونے میں مسافروں کے قدم ڈگمگائے جاتے تھے عجب نشہ تھا سفر کے طویل ہونے میں وہ ایک سنگ جو رستے میں ایستادہ تھا اسے زمانے لگے سنگ میل ہونے میں منافقین سے خطرہ کبھی غنیم کا خوف قیامتیں ہیں بہت بے فصیل ہونے میں عزیز ہونے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3783 سے 4657