شاعری

اس بار ہواؤں نے جو بیداد گری کی

اس بار ہواؤں نے جو بیداد گری کی پھر میرے چراغوں نے بھی شوریدہ سری کی میں نے کسی ہنستے ہوئے لمحے کی طلب میں اس شہر دل آویز میں بس دربدری کی کچھ اور وسیلہ مرے اظہار کو کم تھا سو میں نے مری جان سدا شعر گری کی اے عہد رواں میں ترا مہمان ہوا تھا لیکن ترے لوگوں نے بڑی بے خبری ...

مزید پڑھیے

میں نیند کے ایوان میں حیران تھا کل شب

میں نیند کے ایوان میں حیران تھا کل شب اک خواب مری آنکھ کا مہمان تھا کل شب کس غم میں بکھرتے رہے آکاش پہ تارے کیوں چاند پریشان پریشان تھا کل شب ہر آن کوئی یاد چمکتی رہے دل میں ہر لمحہ کوئی شور تھا، طوفان تھا کل شب کیا جانیے کیا اس کی ندامت کا سبب تھا کیا جانیے کیوں میں بھی پشیمان ...

مزید پڑھیے

شکر ہے اب کے بیکلی کم ہے

شکر ہے اب کے بیکلی کم ہے آج کل ان سے دوستی کم ہے سانس لینے میں دم نکلتا ہے ان ہواؤں میں کچھ نمی کم ہے تم اسے زخم دل دکھاتے ہو وہ جو قاتل ہے آدمی کم ہے تاب بھر اس میں ہے جلانے کی اپنے سورج میں روشنی کم ہے ہم تو دنیا کو کیا سے کیا کر دیں کیا کریں اپنی زندگی کم ہے لگ رہا ہے کہ وہ نہ ...

مزید پڑھیے

عجیب تشنگی ہر سو مرے بدن میں ہے

عجیب تشنگی ہر سو مرے بدن میں ہے کسی سراب کا آہو مرے بدن میں ہے کسی سے عشق سا ہونے کو ہے یہ تم ہو کیا نئے گلاب کی خوشبو مرے بدن میں ہے کبھی کسی سے بھی کھل کر میں مل نہیں سکتا مجھے خبر ہے کہ بس تو مرے بدن میں ہے محل کو چھوڑ کے آ جاتی ہیں زلیخائیں نہ جانے کون سا جادو مرے بدن میں ...

مزید پڑھیے

ذرا سی ان بن میں روٹھ کر وہ جو دشمنوں میں ٹہل رہے ہیں

ذرا سی ان بن میں روٹھ کر وہ جو دشمنوں میں ٹہل رہے ہیں ابھی جو نوحہ بنے ہوئے ہیں کبھی ہماری غزل رہے ہیں بنا بتائے چلا گیا تھا بتا کے ملنے جو آ گیا ہوں تو روٹھ کر وہ گئے ہیں گھر میں خوشی سے چھپ کر اچھل رہے ہیں مرض ہوا ہے محبتوں کا یہ رات کیسے کٹے گی جانے ہماری نیندیں بھی اڑ چکی ہیں ...

مزید پڑھیے

اک غزل تو مرے ہاتھوں سے مثالی ہو جائے

اک غزل تو مرے ہاتھوں سے مثالی ہو جائے کاش کے تو مرا محبوب خیالی ہو جائے دیکھ لے تو مری جانب جو اٹھا کر نظریں چشم پر نم جو تری ہے وہ غزالی ہو جائے چاند سے رخ پہ جو پھرتے ہو لگا کر گاگل عید کر لے نہ کوئی کچھ کی دیوالی ہو جائے سامنے اس کو میں رکھتا ہوں غزل کہتا ہوں جب اس غزل گوئی کی ...

مزید پڑھیے

شکاری ہیں بڑے شاطر بہانہ لے کے چلتے ہیں

شکاری ہیں بڑے شاطر بہانہ لے کے چلتے ہیں وہ ترچھی نظروں میں سیدھا نشانہ لے کے چلتے ہیں ہماری میزبانی سے نہ گھبرایا کرو لوگو ہم اپنے ساتھ اپنا آب و دانہ لے کے چلتے ہیں ذرا پہچان کر بتلاؤ تو یہ کون ہیں کیا ہیں کہ بادل جن کے سر پر شامیانہ لے کے چلتے ہیں کہ ہم اہل ادب ہم کیا کریں گے ...

مزید پڑھیے

دریچے سو گئے شب جاگتی ہے

دریچے سو گئے شب جاگتی ہے میرے کمرے میں کیسی خامشی ہے جدھر دیکھو فسردہ زندگی ہے مجھے لگتا ہے یہ غم کی صدی ہے جو رستوں میں بھٹکتی پھر رہی ہے اسے پہچان فکر زندگی ہے سمندر کا تموج ابر و باراں زمیں کے دل میں پھر بھی تشنگی ہے ہر اک لمحہ ہمارا خون تازہ محبت جونک بن کر چوستی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

میں اپنے شہر میں اپنا ہی چہرہ کھو بیٹھا

میں اپنے شہر میں اپنا ہی چہرہ کھو بیٹھا یہ واقعہ جو سنایا تو وہ بھی رو بیٹھا تمہاری آس میں آنکھوں کو میں بھگو بیٹھا کہ دل میں یاس کے کانٹے کئی چبھو بیٹھا متاع حال نہ ماضی کا کوئی سرمایہ ندی میں وقت کی ہر چیز کو ڈبو بیٹھا سنہرے وقت کی تحریریں جن میں تھیں محفوظ میں ان صحیفوں کو ...

مزید پڑھیے

میں محل ریت کے صحرا میں بنانے بیٹھا

میں محل ریت کے صحرا میں بنانے بیٹھا چند الفاظ کو ماضی کے بھلانے بیٹھا حادثے سے ہی ہوا غم کا مداوا میرے فلسفہ صبر کا لوگوں کو پڑھانے بیٹھا تھک کے سائے میں ببولوں کے سکوں جب چاہا اس کا ہر پتہ مجھے کانٹے لگانے بیٹھا جس نے توڑا سبھی ناطوں سبھی رشتوں کو مرے عمر بھر کا وہی اب قرض ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3784 سے 4657