اس بار ہواؤں نے جو بیداد گری کی
اس بار ہواؤں نے جو بیداد گری کی پھر میرے چراغوں نے بھی شوریدہ سری کی میں نے کسی ہنستے ہوئے لمحے کی طلب میں اس شہر دل آویز میں بس دربدری کی کچھ اور وسیلہ مرے اظہار کو کم تھا سو میں نے مری جان سدا شعر گری کی اے عہد رواں میں ترا مہمان ہوا تھا لیکن ترے لوگوں نے بڑی بے خبری ...