سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا
سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا جھوٹوں کے لئے شہر بھی چھوڑا نہیں جاتا تم کتنا ہی عہدوں سے نوازو ہمیں لیکن نفرت کا شجر ہم سے تو بویا نہیں جاتا سوچو تو جوانی کبھی واپس نہیں آتی دیکھو تو کبھی آ کے بڑھاپا نہیں جاتا دل پر تو بہت زخم زمانے کے لگے ہیں خود داری سے لیکن کبھی رویا ...