شاعری

جینے کے ڈھب جب آئے تو مرنا پڑا مجھے

جینے کے ڈھب جب آئے تو مرنا پڑا مجھے کس غم سے رم کیا کہ ٹھہرنا پڑا مجھے میں اور اپنی جان کا دشمن نہیں نہیں ایسی ہی وہ ادا تھی جو مرنا پڑا مجھے کچھ خود مجھے ابھار گئی رفعت جمال کچھ آپ پستیوں سے ابھرنا پڑا مجھے حالانکہ اپنے آپ سے میں دور بھی نہ تھا کتنے ہی راستوں سے گزرنا پڑا ...

مزید پڑھیے

صبا سے آتی ہے کچھ بوئے آشنا مجھ کو

صبا سے آتی ہے کچھ بوئے آشنا مجھ کو بلا رہا ہے مرے خوں کا ذائقہ مجھ کو ہنوز صفحۂ ہستی پہ ہوں میں حرف غلط کوئی ہنوز ہے لکھ لکھ کے کاٹتا مجھ کو ہزار چہرہ طلسم گریز پا ہوں میں اسیر کر نہ سکا کوئی آئنا مجھ کو چلا ہی جاؤں میں پرچھائیوں کے دیس کو اور پکارتا رہے کرنوں کا قافلہ مجھ ...

مزید پڑھیے

رواں دواں سوئے منزل ہے قافلہ کہ جو تھا

رواں دواں سوئے منزل ہے قافلہ کہ جو تھا وہی ہنوز ہے یک دشت فاصلہ کہ جو تھا نشاط گوش سہی جل ترنگ کی آواز نفس نفس ہے اک آشوب کربلا کہ جو تھا گیا بھی قافلہ اور تجھ کو ہے وہی اب تک خیال زاد سفر فکر راحلہ کہ جو تھا وہ آئے جاتا ہے کب سے پر آ نہیں جاتا وہی صدائے قدم کا ہے سلسلہ کہ جو تھا

مزید پڑھیے

بستہ لب تھا وہ مگر سارے بدن سے بولتا تھا

بستہ لب تھا وہ مگر سارے بدن سے بولتا تھا بھید گہرے پانیوں کے چپکے چپکے کھولتا تھا تھا عجب کچھ سحر ساماں یہ بھی اچرج ہم نے دیکھا چھانتا تھا خاک صحرا اور موتی رولتا تھا رچ رہا تھا دھیرے دھیرے مجھ میں نشہ تیرگی کا کون تھا جو میرے پیمانے میں راتیں گھولتا تھا ڈر کے مارے لوگ تھے ...

مزید پڑھیے

ہے دل میں ایک بات جسے در بہ در کہیں

ہے دل میں ایک بات جسے در بہ در کہیں ہر چند اس میں جان بھی جائے مگر کہیں مشاط گان کاکل شمع خیال سب کس کو حریف جلوۂ برق نظر کہیں پرچھائیاں بھی چھوڑ گئیں بے کسی میں ساتھ اب اے شب حیات کسے ہم سفر کہیں پھیلے غبار رنگ دروں تو سواد شام پھوٹے لہو تو موج خرام سحر کہیں جز حرف شوق کس کو ...

مزید پڑھیے

کسے بتاؤں کہ غم کیا ہے سر خوشی کیا ہے

کسے بتاؤں کہ غم کیا ہے سر خوشی کیا ہے ابھی زمانے کا معیار آگہی کیا ہے قدم قدم پہ میں سنبھلا ہوں ٹھوکریں کھا کر یہ ٹھوکروں نے بتایا غلط روی کیا ہے زمیں پہ لالہ و گل آسماں پہ ماہ و نجوم نگاہ حسن طلب کے لیے کمی کیا ہے کمند ڈال رہا ہے جو چاند تاروں پر خدا ہی جانے کہ تقدیر آدمی کیا ...

مزید پڑھیے

ملے جو مدت کے بعد ہم تم نہ تم وہ تم تھے نہ ہم وہ ہم تھے

ملے جو مدت کے بعد ہم تم نہ تم وہ تم تھے نہ ہم وہ ہم تھے تھے ہم بھی خاموش تم بھی گم صم نہ تم وہ تم تھے نہ ہم وہ ہم تھے نہ آنکھ چھلکی نہ ہونٹ لرزے نہ سانس الجھی نہ دل ہی دھڑکا کہاں وہ جذبات کا تلاطم نہ تم وہ تم تھے نہ ہم وہ ہم تھے نہ پیاری پیاری شکایتیں وہ نہ پہلے جیسی عنایتیں وہ نہ ...

مزید پڑھیے

ہے بھی کچھ یا کہ سمک تا بہ‌‌ سما کچھ بھی نہیں

ہے بھی کچھ یا کہ سمک تا بہ‌‌ سما کچھ بھی نہیں پوچھا جب جب تو یہی آئی صدا کچھ بھی نہیں زندگی لائی ہے اس دشت میں مجھ کو کہ جہاں راہرو راہ گزر راہنما کچھ بھی نہیں جانے کیوں آپ ادھر اپنے قدم جاتے ہیں کہ جدھر گھور اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں اک قیامت ہے مرے جرم سے تیرا اغماض آہ یہ ...

مزید پڑھیے

وہ دھیان کی راہوں میں جہاں ہم کو ملے گا

وہ دھیان کی راہوں میں جہاں ہم کو ملے گا بس ایک چھلاوے سا کوئی دم کو ملے گا انجانی زمینوں سے مجھے دے گا صدا وہ نیرنگ نوا شوق کی سرگم کو ملے گا میں اجنبی ہو جاؤں گا خود اپنی نظر میں جس دم وہ مرے دیدۂ پر نم کو ملے گا جو نقش کہ ارژنگ زمانہ میں نہیں ہے اس دل کے دھڑکتے ہوئے البم کو ملے ...

مزید پڑھیے

کہتے ہو کچھ کہوں تو غلط سربسر غلط

کہتے ہو کچھ کہوں تو غلط سربسر غلط کیوں کر بنے کہو جو ہر اک بات پر غلط تو کون پھر درست ہے بارے تمہیں کہو اچھا غلط ہے بات ہماری اگر غلط انصاف شرط ہے مگر انصاف ہے کہاں جو بھی ہمیں ملا سو ملا داد گر غلط دیکھو تو منہ وہ آئے ہے تس پر ہمارے منہ اکثر کلام جس کا غلط بیشتر غلط ہوتی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 363 سے 4657