جینے کے ڈھب جب آئے تو مرنا پڑا مجھے
جینے کے ڈھب جب آئے تو مرنا پڑا مجھے کس غم سے رم کیا کہ ٹھہرنا پڑا مجھے میں اور اپنی جان کا دشمن نہیں نہیں ایسی ہی وہ ادا تھی جو مرنا پڑا مجھے کچھ خود مجھے ابھار گئی رفعت جمال کچھ آپ پستیوں سے ابھرنا پڑا مجھے حالانکہ اپنے آپ سے میں دور بھی نہ تھا کتنے ہی راستوں سے گزرنا پڑا ...