شاعری

کہیں اندھیرے کہیں روشنی سے ڈرتے ہوئے

کہیں اندھیرے کہیں روشنی سے ڈرتے ہوئے تمام عمر گزاری ہے ہم نے مرتے ہوئے اڑا کے لے تو گئی شاخ سے سبھی پتے ہوا نے دکھ بھی نہ پوچھا مرا گزرتے ہوئے کہیں یہ خواب سی تصویر بول اٹھی تو خیال آیا مصور کو رنگ بھرتے ہوئے اسے تو بوجھ اٹھانا تھا اپنی ہستی کا وہ مسکرا نہ سکا آج بھی سنورتے ...

مزید پڑھیے

بس یہی بات یہاں حرف ملامت کی ہے

بس یہی بات یہاں حرف ملامت کی ہے میں نے دریا کی نہیں دشت کی بیعت کی ہے قتل سورج کو کیا وہ بھی چھپا کر خنجر شام والوں نے سحر میں یہ سیاست کی ہے ورنہ کیا ہم کو غرض حال تمہارا پوچھیں بات یہ کچھ بھی نہیں صرف محبت کی ہے ہم تو موجوں سے لڑے اور کنارے پہنچے ہم نے کب ڈوبتی کشتی کی حمایت کی ...

مزید پڑھیے

یہ آرزو ہے رات کا منظر دکھائی دے

یہ آرزو ہے رات کا منظر دکھائی دے پھر آسماں کا چاند زمیں پر دکھائی دے ہم سیر کر رہے ہیں خلاؤں کی رات دن ممکن نہیں کہ کوئی سمندر دکھائی دے میری شہادتوں کا کرشمہ تو دیکھیے اب تو لہو کی بوند بھی خنجر دکھائی دے مجھ کو سفر قبول ہے لیکن ہے ایک شرط میں جس طرف بھی جاؤں مرا گھر دکھائی ...

مزید پڑھیے

زندگی کی تھا علامت اک ہنر بے جان سا

زندگی کی تھا علامت اک ہنر بے جان سا رہ گیا تصویر کوئی دیکھ کر حیران سا تیری یادیں دفن کر دیتی ہیں اس کے زور کو روز اٹھتا تو ہے دل میں جا بہ جا طوفان سا رونق شہر ریا تاخیر ہونی تھی ہوئی راستے میں پڑ گیا تھا اک کھنڈر ویران سا آپ آئیں گے تو وحشت ساتھ لے کر آئیں گے راستہ آتا ہے میرے ...

مزید پڑھیے

بڑی اداس ہیں شامیں ترے وصال کے بعد

بڑی اداس ہیں شامیں ترے وصال کے بعد کہ زخم پھر سے ابھر آئے اندمال کے بعد تمہاری بات ہی تسلیم کی بہر صورت زمانے بھر کے دماغوں نے قیل و قال کے بعد کہاں ہوں کون ہوں کیسا ہوں میں کہاں کا ہوں کوئی خیال نہ آیا ترے خیال کے بعد ہوئی نصیب نہ عزت حیات میں جس کو سجا ہوا تھا وہی گھر میں ...

مزید پڑھیے

سفر آسان ہے لیکن اسے دشوار کرتے ہیں

سفر آسان ہے لیکن اسے دشوار کرتے ہیں در و دیوار گھر کے یاد ہم سو بار کرتے ہیں انہیں تاریک راتوں سے نکل آئے گا اک سورج اندھیروں کے سفینے پر شب غم پار کرتے ہیں سمندر کے کنارے پر ٹھہرتے ہیں گھروندے کب عجب کار جنوں ہے آپ یہ بیکار کرتے ہیں بلا لیتے ہیں تاریکی وہ اپنے گھر کے آنگن ...

مزید پڑھیے

موسم ہو کوئی یاد کے خیمے نہیں اٹھتے

موسم ہو کوئی یاد کے خیمے نہیں اٹھتے صحرا سے ترے چاہنے والے نہیں اٹھتے ہیں رقص کے عالم میں سلگتے ہوئے چہرے ایسے تو کسی گھر سے جنازے نہیں اٹھتے اک پیاس نے کیسا یہ مجھے توڑ دیا ہے ہاتھوں سے مرے آج بھی کوزے نہیں اٹھتے سورج کے طمانچے سے فلک جاگ گیا ہے بستر سے مگر پھر بھی ستارے نہیں ...

مزید پڑھیے

کبھی جو دھوپ ہمارے مکاں میں آ جائے

کبھی جو دھوپ ہمارے مکاں میں آ جائے تو سایہ دار شجر بھی اماں میں آ جائے میں شاہزادہ نہیں تو فقیر ہی بہتر کہیں تو ذکر مرا داستاں میں آ جائے میں تیرا نام سلیقے سے تو پکاروں مگر خدا نخواستہ لکنت زباں میں آ جائے کسے ڈبونا ہے اور کس کو پار کرنا ہے شعور اتنا تو آب رواں میں آ جائے میں ...

مزید پڑھیے

یادوں سے مہکتی ہوئی اس رات میں کیا ہے

یادوں سے مہکتی ہوئی اس رات میں کیا ہے یہ راز کھلا آج کہ جذبات میں کیا ہے اک تجھ سے ہی امید لگا رکھی ہے ورنہ یہ مجھ کو خبر ہے کہ مری ذات میں کیا ہے یہ کہہ کے پرندوں نے بھری آج اڑانیں شہروں کی طرف چلتے ہیں دیہات میں کیا ہے یوں غور سے ہاتھوں کی لکیریں نہ پڑھا کر بگڑیں گے سنور جائیں ...

مزید پڑھیے

اے خدا جب سے عطا کی تو نے پیشانی مجھے

اے خدا جب سے عطا کی تو نے پیشانی مجھے سر اٹھانے میں ہوئی ہے کتنی آسانی مجھے اپنے دل میں ہی بسا رکھی ہے میں نے کائنات کوئی کہہ سکتا نہیں اب نقش ویرانی مجھے ایسے وحشت ناک منظر مجھ میں آتے ہیں نظر اب نہیں ہوتی کسی پر کوئی حیرانی مجھے سینکڑوں صدیوں سے صحرا کی صدا کے ساتھ ہوں راس آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 329 سے 4657