شاعری

نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے

نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے جسے تم نے کیا خاموش اس سے کیا صدا نکلے قیامت اک بپا ہے سینۂ مجروح الفت میں نہ تیر دلنشیں نکلے نہ جان مبتلا نکلے تمہارے خوگر بیداد کو کیا لطف کی حاجت وفا ایسی نہ کرنا تم جو آخر کو جفا نکلے گماں تھا کام دل اغیار تم سے پاتے ہیں لیکن ہماری طرح وہ ...

مزید پڑھیے

یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہے

یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہے ملا ہے درد وہ دل کو جو راحت جاں ہے تری نگاہ سمجھتی ہے یا نہیں دیکھوں لب خموش میں کوئی سوال پنہاں ہے مراد ذوق خرابی کی اب بر آئے گی کہ دل کی تاک میں وہ چشم فتنہ ساماں ہے فراغ حوصلگی پر جنوں کی شاہد ہے وہ ایک چاک جو دامن سے تاگریباں ہے یہ بے خودی ...

مزید پڑھیے

آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا

آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کا پایہ بہت کیا بلند اس نے حریم ناز کا تا نا پہنچ سکے غبار رہ گزر‌ نیاز کا خستگیٔ کلیم نے نکتہ عجب سمجھا دیا ورنہ حریف میں بھی تھا اس مژۂ دراز کا دیر ملا تھا راہ میں کعبے کو ہم نکل گئے جذبۂ شوق میں دماغ کس کو ہو ...

مزید پڑھیے

یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا

یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا گیا زیر زمیں جو کوئی زیر آسماں آیا نہ ہو گرم اس قدر اے شمع اس میں تیرا کیا بگڑا اگر جلنے کو اک پروانۂ آتش بجاں آیا خدا جانے ملا کیا مجھ کو جا کر ان کی محفل میں کہ باصد نامرادی بھی وہاں سے شادماں آیا جمایا رنگ اپنا میں نے مٹ کر تیرے کوچے ...

مزید پڑھیے

میں رستے میں جہاں ٹھہرا ہوا تھا

میں رستے میں جہاں ٹھہرا ہوا تھا وہیں تو دھوپ کا چہرہ کھلا تھا سبھی الفاظ تھے میری زباں کے مگر میں نے کہاں کچھ بھی کہا تھا وہ کس کے جسم کی خوشبو تھی آخر ہوا سے تذکرہ کس کا سنا تھا سمندر میں بہت ہلچل تھی اک دن سفینہ کس کا ڈوبا جا رہا تھا کہ جیسے خواب سا دیکھا تھا کوئی بس اتنا یاد ...

مزید پڑھیے

دل کے کہنے پہ چلوں عقل کا کہنا نہ کروں

دل کے کہنے پہ چلوں عقل کا کہنا نہ کروں میں اسی سوچ میں ہوں کیا کروں اور کیا نہ کروں زندگی اپنی کسی طرح بسر کرنا ہے کیا کروں آہ اگر تیری تمنا نہ کروں مجلس وعظ میں کیا میری ضرورت ناصح گھر میں بیٹھا ہوا شغل مے و مینا نہ کروں مست ہے حال میں دل بے خیر مستقبل سوچتا ہوں اسے ہشیار کروں ...

مزید پڑھیے

چلا جاتا ہے کاروان نفس

چلا جاتا ہے کاروان نفس نہ بانگ درا ہے نہ صوت جرس برس کتنے گزرے یہ کہتے ہوئے کہ کچھ کام کر لیں گے اب کے برس نہ وہ پوچھتے ہیں نہ کہتا ہوں میں رہی جاتی ہے دل کی دل میں ہوس وہ حسرت زدہ صید میں ہی تو ہوں ہے پرواز جس کی دردن ہوس ستم ہیں یہ وحشتؔ تری غفلتیں تجھے کاش ہوتا شمار نفس

مزید پڑھیے

سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہوا

سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہوا آج اس کوچے میں گزر نہ ہوا ہم بھی تھے جوہر گراں مایہ پر کوئی صاحب نظر نہ ہوا امن عالم میں کیوں نہیں یا رب اس کے قابل مگر بشر نہ ہوا بے کسی پردہ دار درد ہوئی خیر گزری کہ اپنا گھر نہ ہوا قدردانی کی کیفیت معلوم عیب کیا ہے اگر ہنر نہ ہوا سر جھکائے جو آتے ہو ...

مزید پڑھیے

تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا

تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا ترکیب دل نے درد کو درماں بنا دیا صد شکر آج ہو گئی تکمیل عشق کی اپنے کو خاک کوچۂ جاناں بنا دیا کوتاہی کوئی دست جنوں سے نہیں ہوئی دامن کو ہم کنار گریباں بنا دیا چھوڑی ہے جب سے میں نے سلامت روی کی چال دشواریوں کو راہ کی آساں بنا دیا اے مشعل امید یہ ...

مزید پڑھیے

کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہو

کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہو ستم ایجاد ہو پھر کیوں ستم ایجاد نہ ہو نہیں پیمان وفا تم نے نہیں باندھا تھا وہ فسانہ ہی غلط ہے جو تمہیں یاد نہ ہو تم نے دل کو مرے کچھ ایسا کیا ہے ناشاد شاد کرنا بھی جو اب چاہو تو یہ شاد نہ ہو جو گرفتار تمہارا ہے وہی ہے آزاد جس کو آزاد کرو تم کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 328 سے 4657