شاعری

مرے وجود کو پامال کرنا چاہتا ہے

مرے وجود کو پامال کرنا چاہتا ہے جو حادثہ ہے مجھی پر گزرنا چاہتا ہے وہ جنبش اپنے لبوں کو نہ دے یہ بات الگ ادا ادا سے مگر بات کرنا چاہتا ہے کماں سے چاہے نہ نکلے کسی کا تیر نظر مگر یہ لگتا ہے دل میں اترنا چاہتا ہے گماں یہ ہوتا ہے تصویر دیکھ کر تیری کہ عکس سے ترا پیکر ابھرنا چاہتا ...

مزید پڑھیے

خود کسی سطح پہ آنے میں بڑا وقت لگا

خود کسی سطح پہ آنے میں بڑا وقت لگا اپنی پہچان بنانے میں بڑا وقت لگا خواہش دید کے اظہار میں بھی دیر لگی ان کو بھی پردہ اٹھانے میں بڑا وقت لگا گھر سے ہجرت پہ نکل جانا تھا لمحوں کا عمل پھر کہیں بسنے بسانے میں بڑا وقت لگا تعزیت کیجیے اب وقت عیادت تو گیا آپ آئے مگر آنے میں بڑا وقت ...

مزید پڑھیے

غم دل کو زمانے سے چھپانا بھی نہیں آتا

غم دل کو زمانے سے چھپانا بھی نہیں آتا ہمیں تو ٹھیک سے آنسو بہانا بھی نہیں آتا سجا کر کس طرح رکھی ہیں کمرے میں تری یادیں اگرچہ ٹھیک سے ہم کو سجانا بھی نہیں آتا رہوں گا کس طرح خواہش کی بستی میں اکیلا میں کروں گا کیا مجھے پیسہ کمانا بھی نہیں آتا بنیں گے کیا شکاری ہم تمہارے سامنے ...

مزید پڑھیے

افسوس تری یاد نے رستہ نہیں بدلا

افسوس تری یاد نے رستہ نہیں بدلا ورنہ تو مرے گاؤں میں کیا کیا نہیں بدلا جو موم کا پتلا تھا وہ پگھلا نہیں اب تک جو آگ کا دریا تھا وہ دریا نہیں بدلا موسم کی طرح روز بدلنا نہیں آتا بچپن سے اسی واسطے چہرہ نہیں بدلا اب تک وہ مرے خون کا پیاسا ہے مرا یار اب تک مرے دشمن کا وہ لہجہ نہیں ...

مزید پڑھیے

اپنی ہستی مٹائے پھرتا ہوں

اپنی ہستی مٹائے پھرتا ہوں رنج کیا کیا اٹھائے پھرتا ہوں شب گزرتی ہے اس کی یادوں میں سارا دن لڑکھڑائے پھرتا ہوں اب تو عادی ہوں درد سہنے کا اب تو بس سر جھکائے پھرتا ہوں عمر لمبی ہو میری آنکھوں کی خواب تیرے سجائے پھرتا ہوں آخری فرد ہوں قبیلے کا دل میں یادیں بسائے پھرتا ...

مزید پڑھیے

اشکوں نے سمندر میں اک آگ لگائی ہے

اشکوں نے سمندر میں اک آگ لگائی ہے پانی پہ ستم گر کی تصویر بنائی ہے اس دل نے رلایا ہے اک بار مجھے پھر سے اس دل نے مجھے پھر سے وہ یاد دلائی ہے یہ کیسی جدائی ہے جو ختم نہیں ہوتی یہ کیسی اداسی ہے اس دل پہ جو چھائی ہے میں نے ہی محبت کا اظہار کیا پہلے میں نے ہی اسے جا کر یہ بات بتائی ...

مزید پڑھیے

یاد آیا نہ کرو دل کو جلانے والے

یاد آیا نہ کرو دل کو جلانے والے ہم نہیں اب کے ترا ہجر منانے والے غم سنانے کے لیے میں بھی چلا جاؤں گا لوگ مل جائے اگر اشک بہانے والے نیند اس بار مرا ساتھ نہیں دے گی کبھی خواب اس بار نہیں ہاتھ میں آنے والے آ کسی روز مرے سامنے اک بار کہیں خواب میں آ کے مری نیند چرانے والے میں رہا ...

مزید پڑھیے

عشق جائی کہاں سے آئی ہے

عشق جائی کہاں سے آئی ہے یہ جدائی کہاں سے آئی ہے جب گئی تھی جوان لڑکی تھی بوڑھی مائی کہاں سے آئی ہے میں نکما ہوں مانتا بھی ہوں کامیابی کہاں سے آئی ہے اس محبت کو خود ہی چھوڑا تھا جا چکی تھی کہاں سے آئی ہے میں تمہارے بغیر مر جاؤں اتنی ہستی کہاں سے آئی ہے عشق کرتی ہے تو نمازوں ...

مزید پڑھیے

میں تو سمجھا تھا مرا کردار ہی مارا گیا

میں تو سمجھا تھا مرا کردار ہی مارا گیا اس کہانی میں کہانی کار ہی مارا گیا دشمنی کرنے کا پھر کیا فائدہ ہے تو بتا میں ترے ہاتھوں اگر بے کار ہی مارا گیا میں خیال یار کی سوچوں کو سوچوں کس طرح میں خیال یار میں سو بار ہی مارا گیا پھر محبت ہو گئی ہم کو تمہاری یاد سے پھر دل بسمل دل بیمار ...

مزید پڑھیے

بچ کر کہاں میں ان کی نظر سے نکل گیا

بچ کر کہاں میں ان کی نظر سے نکل گیا اک تیر تھا کہ صاف جگر سے نکل گیا خود رفتگی ہی چشم حقیقت جو وا ہوئی دروازہ کھل گیا تو میں گھر سے نکل گیا محو جمال رہ گئے ہم کچھ خبر نہیں آیا کدھر سے یار کدھر سے نکل گیا کیسا ہوا ہوا مرے رونے کو دیکھ کر دامان ابر دیدۂ تر سے نکل گیا رونے سے ہجر یار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 302 سے 4657