مرے وجود کو پامال کرنا چاہتا ہے
مرے وجود کو پامال کرنا چاہتا ہے جو حادثہ ہے مجھی پر گزرنا چاہتا ہے وہ جنبش اپنے لبوں کو نہ دے یہ بات الگ ادا ادا سے مگر بات کرنا چاہتا ہے کماں سے چاہے نہ نکلے کسی کا تیر نظر مگر یہ لگتا ہے دل میں اترنا چاہتا ہے گماں یہ ہوتا ہے تصویر دیکھ کر تیری کہ عکس سے ترا پیکر ابھرنا چاہتا ...