شاعری

دل پر داغ باغ کس کا ہے

دل پر داغ باغ کس کا ہے دیدۂ تر ایاغ کس کا ہے مے کدہ صحن باغ کس کا ہے ساغر گل ایاغ کس کا ہے داغ چمکا چلی نسیم بہار یہ ہوا میں چراغ کس کا ہے کیوں کہیں زلف یار کو سنبل یاں پریشاں دماغ کس کا ہے دل پر داغ کی یہی ہے بہار نہ کھلے خانہ باغ کس کا ہے ناصحا مغز کیوں پھراتا ہے چل ترا سا دماغ ...

مزید پڑھیے

آیا جو موسم گل تو یہ حساب ہوگا

آیا جو موسم گل تو یہ حساب ہوگا ہم ہوں گے یار ہوگا جام شراب ہوگا نالوں سے اپنی اک دن وہ انقلاب ہوگا دم بھر میں آسماں کا عالم خراب ہوگا دکھلائیں گے تجھے ہم داغ جگر کا عالم منہ اس طرف کبھی تو اے آفتاب ہوگا اے زاہد ریائی دیکھی نماز تیری نیت اگر یہی ہے تو کیا ثواب ہوگا وہ رد خلق ...

مزید پڑھیے

یہ جل جاتے ہیں لب تک آہ بھی آنے نہیں دیتے

یہ جل جاتے ہیں لب تک آہ بھی آنے نہیں دیتے مدد کے واسطے آواز پروانے نہیں دیتے کہیں پر ذکر ان کا بھی نہ آ جائے اسی ڈر سے وہ روداد محبت ہم کو دہرانے نہیں دیتے مرے بچے بھی میری ہی طرح خوددار ہیں شاید خیال مفلسی مجھ کو کبھی آنے نہیں دیتے چلے ہو مے کشو پینے مگر تم ہوش مت کھونا کسی کو ...

مزید پڑھیے

ڈر موت کا نہ خوف کسی دیوتا کا تھا

ڈر موت کا نہ خوف کسی دیوتا کا تھا وہ فتح یاب یوں تھا کہ بندہ خدا کا تھا پہلے بھی حادثات ہوئے زندگی کے ساتھ لیکن جو آج دیکھا وہ منظر بلا کا تھا لو وہ بھی گر گیا مرے آنگن کا پیڑ آج ہر وقت جس سے آسرا تازہ ہوا کا تھا سن کر جسے پہاڑوں کے سینے دہل گئے یہ بھی کرشمہ دوستو اپنی صدا کا ...

مزید پڑھیے

جانے کیوں بھائی کا بھائی کھل کے دشمن ہو گیا

جانے کیوں بھائی کا بھائی کھل کے دشمن ہو گیا گھر میں دیواریں اٹھانا اب تو فیشن ہو گیا ایک مفلس کو سڑک پر گالیاں دینے کے بعد وہ سمجھتا ہے ہمارا نام روشن ہو گیا آج تو آئے ہمیں کس کی قیادت پر یقیں کل جو اپنا رہنما تھا آج رہزن ہو گیا دیکھ کر بچوں کو بھی اب یاد آتا ہی نہیں محو کچھ ایسا ...

مزید پڑھیے

نفس نمرود ہے کیا ہونا ہے

نفس نمرود ہے کیا ہونا ہے شرک موجود ہے کیا ہونا ہے کشف مقصود ہے کیا ہونا ہے حال مفقود ہے کیا ہونا ہے سجدے ہوتے ہیں کسے او غافل کون معبود ہے کیا ہونا ہے چھوڑ دنیائے دنی کا پیچھا اس سے کیا سود ہے کیا ہونا ہے ہست و بود تن خاکی اک دن نیست نابود ہے کیا ہونا ہے صاف ہوتا کہ ہو از خود ...

مزید پڑھیے

بے تابئ دل نے زار پا کر

بے تابئ دل نے زار پا کر دے دے پٹکا اٹھا اٹھا کر گھر میں دعویٰ نہ حسن کا کر یوسف سے نکل کے سامنا کر زلفوں کو نہ چھوڑ تو بڑھا کر نازک ہے گرے گا جھونک کھا کر بیٹھے جو وہ شب نقاب اٹھا کر بجھنے لگی شمع جھلملا کر برباد نہ کر تو آبرو کو مانند حباب سر اٹھا کر اس گل کی مژہ نے مار ...

مزید پڑھیے

اے صبا جذب پہ جس دم دل ناشاد آیا

اے صبا جذب پہ جس دم دل ناشاد آیا اپنی آغوش میں اڑ کر وہ پری زاد آیا محو ابرو کے لئے خنجر فولاد آیا ذبح کرنا بھی نہ تجھ کو مرے جلاد آیا سرکشی پر جو وہ سرو ستم ایجاد آیا پاس آرے کے گھسٹتا ہوا شمشاد آیا چشم موسیٰ ہمہ تن بن گیا میں حیرت سے دیکھا اک بت کا وہ عالم کہ خدا یاد آیا دم ...

مزید پڑھیے

کوئی صورت سے گر صفا ہو

کوئی صورت سے گر صفا ہو آئنۂ دل خدا‌ نما ہو ماشاء اللہ چشم بد دور کیا خوب جوان مہ لقا ہو منصف ہوں شیخ و گبر دل میں قصہ چک جائے فیصلہ ہو دوزخ کو بھی مات کر دیا ہے اے سوزش دل ترا برا ہو مسند کیسی فقیر ہوں میں تھوڑی سی جگہ ہو بوریا ہو کہتے ہیں وہ میرے دیکھنے پر دیکھو کوئی نہ دیکھتا ...

مزید پڑھیے

بندہ اب ناصبور ہوتا ہے

بندہ اب ناصبور ہوتا ہے عفو ہووے قصور ہوتا ہے وہ زمیں پر قدم نہیں رکھتے حسن کا کیا غرور ہوتا ہے دولت حسن کے لٹانے میں خرچ کیا اے حضور ہوتا ہے سرمہ آنکھوں میں وہ لگاتے ہیں دیکھیے کیا فتور ہوتا ہے ہم ہیں مجبور آپ ہیں مختار کہئے کس سے قصور ہوتا ہے سایہ اس آفتاب طلعت کا دیدۂ مہ کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 303 سے 4657