دل پر داغ باغ کس کا ہے
دل پر داغ باغ کس کا ہے دیدۂ تر ایاغ کس کا ہے مے کدہ صحن باغ کس کا ہے ساغر گل ایاغ کس کا ہے داغ چمکا چلی نسیم بہار یہ ہوا میں چراغ کس کا ہے کیوں کہیں زلف یار کو سنبل یاں پریشاں دماغ کس کا ہے دل پر داغ کی یہی ہے بہار نہ کھلے خانہ باغ کس کا ہے ناصحا مغز کیوں پھراتا ہے چل ترا سا دماغ ...