نظر میں کوئی منزل ہے نہ جادہ چاہتا ہوں
نظر میں کوئی منزل ہے نہ جادہ چاہتا ہوں سفر چاہے کوئی ہو بے ارادہ چاہتا ہوں خوشی کا کیا خوشی میں چاہے کچھ تخفیف کر دو متاع غم زیادہ سے زیادہ چاہتا ہوں مرا مفہوم آسانی سے کھل جائے جہاں پر میں اپنا لہجۂ اظہار سادہ چاہتا ہوں مری نظروں کو وسعت دو جہاں کی دینے والے میں دامان تخیل ...