شاعری

نظر میں کوئی منزل ہے نہ جادہ چاہتا ہوں

نظر میں کوئی منزل ہے نہ جادہ چاہتا ہوں سفر چاہے کوئی ہو بے ارادہ چاہتا ہوں خوشی کا کیا خوشی میں چاہے کچھ تخفیف کر دو متاع غم زیادہ سے زیادہ چاہتا ہوں مرا مفہوم آسانی سے کھل جائے جہاں پر میں اپنا لہجۂ اظہار سادہ چاہتا ہوں مری نظروں کو وسعت دو جہاں کی دینے والے میں دامان تخیل ...

مزید پڑھیے

اگر رونا ہی اب میرا مقدر ہے محبت میں

اگر رونا ہی اب میرا مقدر ہے محبت میں تو دامن بھی تمہارا ہو مرے اشکوں کی قسمت میں سوالی ہو کے میں نے تیرے در کو بخش دی عزت نہیں تو کیا نہیں ہے میرے دامان محبت میں پئے بخشش ابھی دریائے رحمت جوش میں آئے کم از کم یہ اثر تو ہے مرے اشک ندامت میں پہنچ کر ان کے سنگ آستاں پر بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

بس کہ اب زلف کا سودا بھی مرے سر میں نہیں

بس کہ اب زلف کا سودا بھی مرے سر میں نہیں کیا کروں مانگ کے اس کو جو مقدر میں نہیں وہ بھی منظر تھا کہ خود مجھ میں تھا اک اک منظر یہ بھی منظر ہے کہ اب میں کسی منظر میں نہیں اب جو ہم خود کو سمیٹیں تو سمیٹیں کتنا سر بھی ہے اپنا کھلا پاؤں بھی چادر میں نہیں اے مرے شوق شہادت ترا حافظ ہے ...

مزید پڑھیے

گئی ہے شام ابھی زخم زخم کر کے مجھے

گئی ہے شام ابھی زخم زخم کر کے مجھے اب اور خواب نہیں دیکھنے سحر کے مجھے ہوں مطمئن کہ ہوں آسودۂ غم جاناں مجال کیا کہ خوشی دیکھے آنکھ بھر کے مجھے کہاں ملے گی بھلا اس ستم گری کی مثال ترس بھی کھاتا ہے مجھ پر تباہ کر کے مجھے میں رہ نہ جاؤں کہیں تیرا آئینہ بن کر یہ دیکھنا نہیں اچھا ...

مزید پڑھیے

مری وفا مرا ایثار چھین لے مجھ سے

مری وفا مرا ایثار چھین لے مجھ سے ہے کون جو مرا کردار چھین لے مجھ سے یہ زندگی کوئی سو بار چھین لے مجھ سے مگر نہیں کہ ترا پیار چھین لے مجھ سے یہ وقت وہ ہے کہ قدموں میں بیٹھنے والا یہ چاہتا ہے کہ دستار چھین لے مجھ سے عطا ہو یا تو وہی دبدبہ وہی جذبہ نہیں تو یہ مری للکار چھین لے مجھ ...

مزید پڑھیے

ہم تم کہ روز و شب ملے شام و سحر ملے

ہم تم کہ روز و شب ملے شام و سحر ملے لیکن نہ دل نہ زاویہ ہائے نظر ملے چھلنی ہیں پاؤں کانٹوں بھری رہ گزر ملے ہم کو ہماری شان کے شایاں سفر ملے میں بھی کچھ اپنے کرب کا اظہار کر سکوں مجھ کو بھی کچھ سلیقۂ عرض ہنر ملے بے مانگے پائیں بوند بھی پیاسے تو جی اٹھیں دریا بھی لے کے خوش نہ ہوں ...

مزید پڑھیے

ہجر کی شام آخری تو نہیں

ہجر کی شام آخری تو نہیں میری ہے کون وہ مری تو نہیں بات میری ہے کہ بچھڑتے ہیں مانتا ہوں مگر کہی تو نہیں تم کو جانا ہے تو چلی جاؤ آنکھیں کھولیں ہیں تو گئی تو نہیں کیا تھا وہ ہیر کی کہانی میں جو یہاں پہ ہوا وہی تو نہیں مسکراتے ہو میری غربت پر یہ کسی پر سدا رہی تو نہیں یہ جو چلتی ہے ...

مزید پڑھیے

خوشیاں یاد نہیں ہیں اور غم یاد نہیں

خوشیاں یاد نہیں ہیں اور غم یاد نہیں کیسا ہمدم ہے جس کو ہم یاد نہیں ایک عرصے سے بھولا ہوا ہوں میں اس کو ہوئیں تھیں میری آنکھیں کب نم یاد نہیں ہم تو ازل سے تنہا تھے سو تنہا ہیں غم وہ ملے ہیں خوشی کا عالم یاد نہیں جس میں پھول کھلا کرتے ہیں الفت کے کیا تم کو وہ پیار کا موسم یاد ...

مزید پڑھیے

سوچتے ہیں یار کے ہی سر پہ وار دیں تجھے

سوچتے ہیں یار کے ہی سر پہ وار دیں تجھے زندگی گزارنے کو ہم گزار دیں تجھے ہم تو چاہتے ہیں تجھ کو دل میں ہی اتار دیں دل تو چاہتا ہے اپنا اور پیار دیں تجھے کیوں بدل گیا ہے تو کیا ہوا ہے یار جی دل سے اپنے آج ہم کیوں اتار دیں تجھے رک ہمارے پاس تو دو گھڑی کے واسطے مل ہماری زندگی ہم سنوار ...

مزید پڑھیے

سلیقہ بولنے کا ہو تو بولو

سلیقہ بولنے کا ہو تو بولو نہیں تو چپ بھلی ہے لب نہ کھولو خموشی کا کوئی تو بھید کھولو جو لب کھلتے نہیں آنکھوں سے بولو عداوت کوئی پیمانہ نہیں ہے محبت کو محبت ہی سے تولو قیادت کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ جو آگے ہو اس کے ساتھ ہو لو بہت سے غم چھپے ہوں گے ہنسی میں ذرا ان ہنسنے والوں کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 301 سے 4657