شاعری

جو دوست تھا وہی دشمن ہے کیا کیا جائے

جو دوست تھا وہی دشمن ہے کیا کیا جائے عجب خلش عجب الجھن ہے کیا کیا جائے بسا ہوا ہے جو خوشبو کی طرح سانسوں میں اسی سے اب مری ان بن ہے کیا کیا جائے یگانگت کا وہ جذبہ ادھر رہا نہ ادھر دعا سلام بھی رسماً ہے کیا کیا جائے بہار میں بھی میسر گل مراد نہیں یہ نا مرادئ دامن ہے کیا کیا ...

مزید پڑھیے

خوشی کی آرزو کو پا کے محروم خوشی میں نے

خوشی کی آرزو کو پا کے محروم خوشی میں نے خوشی کی آرزو دل میں کبھی پلنے نہ دی میں نے وطن کی سر زمیں جس پر لٹا دی زندگی میں نے وہیں اپنے لئے پائی محبت کی کمی میں نے جو میری جان کے دشمن تھے ان پر جان دی میں نے سکھائی یوں بھی اپنے دشمنوں کو دوستی میں نے سیاست سے فسادوں کا بنا مسکن وطن ...

مزید پڑھیے

خوش نظر کہہ کے ٹال دے مجھ کو

خوش نظر کہہ کے ٹال دے مجھ کو یا پھر اپنی مثال دے مجھ کو خوش بیانی کا شکریہ لیکن جرأت عرض حال دے مجھ کو تو بھی ہو جائے ہم خیال مرا کوئی ایسا خیال دے مجھ کو عہد حاضر تو نقش ماضی ہے اب نئے ماہ و سال دے مجھ کو نظر آتی نہیں ہے راہ فرار دائرے سے نکال دے مجھ کو تو ہے کیا خود کو جانتا ...

مزید پڑھیے

غیر ممکن تھا یہ اک کام مگر ہم نے کیا

غیر ممکن تھا یہ اک کام مگر ہم نے کیا تیرے نظارے کو پابند نظر ہم نے کیا آگے چل کر یہ خدا جانے کہاں رہ جائیں غیر بھی چل پڑے جب عزم سفر ہم نے کیا ان خیالات ہی پر ٹوٹ پڑی ہے دنیا جن خیالات کو کل ذہن بدر ہم نے کیا دن خطرناک جزیرہ سا نظر آنے لگا اپنی ہی ذات کا کل شب جو سفر ہم نے کیا یوں ...

مزید پڑھیے

سفر جس میں نہ ہو تو ہم سفر اچھا نہیں لگتا

سفر جس میں نہ ہو تو ہم سفر اچھا نہیں لگتا گوارا کر لیا جائے مگر اچھا نہیں لگتا جو سچ پوچھو تو گھر کی ساری رونق اس کے دم سے ہے وہ جان جاں نہ ہو گھر میں تو گھر اچھا نہیں لگتا ہتک آمیز نظروں سے کوئی دیکھے جہاں ہم کو قدم رکھنا بھی اس دہلیز پر اچھا نہیں لگتا خداوندا ترا بندہ جو مانگے ...

مزید پڑھیے

مرے سخن کو وہ اعجاز دے خدائے سخن

مرے سخن کو وہ اعجاز دے خدائے سخن کہ حرف حرف بنے گنج‌‌ بے بہائے سخن سکوت توڑے کبھی تو بھی دل کی بات کہے خدا کرے کبھی تیرے بھی لب پہ آئے سخن غضب خدا کا کڑی دھوپ کا طویل سفر اور اس سفر کا اثاثہ بس اک ردائے سخن حدیث غم کا بیاں ہے بغیر جنبش لب ہے خامشی بھی مری عین مدعائے سخن بدن سے ...

مزید پڑھیے

میں جس کو بھول جانے کا ارادہ کر رہا ہوں

میں جس کو بھول جانے کا ارادہ کر رہا ہوں اسی کو یاد پہلے سے زیادہ کر رہا ہوں ہے یہ بھی دوسروں کو پیاس کا احساس شاید سہانی رت ہے اور میں ترک بادہ کر رہا ہوں مبارک ہو جو تو منزل بمنزل بڑھ رہا ہے تو میں بھی یاد تجھ کو جادہ جادہ کر رہا ہوں نہیں منت کش احساں کسی کا رہ گزر میں میں تنہا ...

مزید پڑھیے

بجا کہ نقش کف پا پہ سر بھی رکھنا ہے

بجا کہ نقش کف پا پہ سر بھی رکھنا ہے مگر بلند مقام نظر بھی رکھنا ہے سخاوت ایسی دکھائی کہ گھر لٹا بیٹھے نہ سوچا یہ بھی کہ کچھ اپنے گھر بھی رکھنا ہے ہوں زخم زخم کہاں تک میں چارہ گر سے کہوں ادھر بھی رکھنا ہے مرہم ادھر بھی رکھنا ہے یہ جبر دیکھو کہ رہنا بھی ہے سر مقتل ہر ایک وار بھی ...

مزید پڑھیے

خوشی دامن کشاں ہے دل اسیر غم ہے برسوں سے

خوشی دامن کشاں ہے دل اسیر غم ہے برسوں سے ہماری زندگی کا ایک ہی عالم ہے برسوں سے ستم ہے آنسوؤں کا پونچھنے والا نہیں کوئی ہماری آنکھ بھی تر آستیں بھی نم ہے برسوں سے وضاحت چاہتا ہوں تجھ سے تیرے اس اشارے کی جو پیہم میری جانب ہے مگر مبہم ہے برسوں سے رہے ہم ساتھ بھی برسوں ترے کہلائے ...

مزید پڑھیے

جان نہیں پہچان نہیں ہے

جان نہیں پہچان نہیں ہے پھر بھی تو وہ انجان نہیں ہے ہر غم سہنا اور خوش رہنا مشکل ہے آسان نہیں ہے دل میں جو مر جائے وہ ہے ارماں جو نکلے ارمان نہیں ہے مجھ کو خوشی یہ ہے کہ خوشی کا مجھ پہ کوئی احسان نہیں ہے اب نہ دکھانا تابش جلوہ اب آنکھوں میں جان نہیں ہے سب کچھ ہے اس دور ہوس میں دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 300 سے 4657