کیسے ہر درد کو سینے میں چھپائے رکھیں
کیسے ہر درد کو سینے میں چھپائے رکھیں اور ہونٹوں پہ تبسم کو سجائے رکھیں جو تھے اپنے وہ زمانہ ہوا سب چھوڑ گئے کب تلک بزم کو غیروں سے سجائے رکھیں یہ سنا ہے کہ وہاں دیر ہے اندھیر نہیں تو چلو بہر دعا ہاتھ اٹھائے رکھیں جب یہ چھٹ جائیں گے بادل تو کرن پھوٹے گی شمع امید کی اک ہم بھی ...