شاعری

طوفاں کی زد پہ اپنا سفینہ جب آ گیا

طوفاں کی زد پہ اپنا سفینہ جب آ گیا ساحل کو موج موج کو ساحل بنا گیا منہ تکتے تکتے تھک گئیں حرماں نصیبیاں ہر انقلاب شوق کی ہمت بڑھا گیا ذوق نظر کی جرأت بے باک الاماں رنگ حیات بن کے فضاؤں پہ چھا گیا تھرا کے شمع انجمن عیش بجھ گئی نیرنگ‌ نور صبح و منظر دکھا گیا عجز رہ نیاز کے قربان ...

مزید پڑھیے

کرم کے اس دور امتحاں سے وہ دور مشق ستم ہی اچھا

کرم کے اس دور امتحاں سے وہ دور مشق ستم ہی اچھا نہ زندگی کی خوشی ہی اچھی نہ بے ثباتی کا غم ہی اچھا تلاش کی سعئ رائیگاں پر نظر تو آتے ہیں غرق حیرت سخن طرازیٔ رہنما سے سکوت نقش قدم ہی اچھا ضیائے نور یقیں ہے رہبر حیات کی تیرہ وادیوں میں بجھا کے دیکھیں بجھانے والے چراغ‌ طاق حرم ہی ...

مزید پڑھیے

حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہے

حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہے مکتوب ازل حرف تمنا تو نہیں ہے دل ہی کی خدائی ہے یہاں آج بھی اے دوست پابند نظر کیف کی دنیا تو نہیں ہے بے بہرۂ عرفان محبت ہے ازل سے سوچا ہے تجھے عقل نے دیکھا تو نہیں ہے اندوہ بد اماں نہ ہو خود موج ترنم آواز کا ہر شعبدہ نغما تو نہیں ہے ہر راہ نظر ...

مزید پڑھیے

مجھ پہ تو گرے خنجر تم لہو لہو کیوں ہو

مجھ پہ تو گرے خنجر تم لہو لہو کیوں ہو زخمی میرے بال و پر تم لہو لہو کیوں ہو تم کو تو ملے تمغے زہد و پارسائی کے سنگ تو پڑے مجھ پر تم لہو لہو کیوں ہو دل کے چاک میں اپنے ایک بھی نہ سل پائی ہیں تمہارے چارہ گر تم لہو لہو کیوں ہو تم کو تو ملا رتبہ سر کے تاج ہونے کا زیر پا ہے میرا سر تم لہو ...

مزید پڑھیے

آنکھوں آنکھوں میں بات ہونے لگی

آنکھوں آنکھوں میں بات ہونے لگی خالی نیندوں سے رات ہونے لگی اس کی نظروں میں نشہ تھا ایسا بر طرف کائنات ہونے لگی ہر طرف ذہن و دل کے گوشے میں ہاں اور نہ کی بساط ہونے لگی جب کبھی مل گئے وہ قسمت سے پھر زمانے کی بات ہونے گلی اور بچھڑے تو کچھ طلب ایسی ریزہ ریزہ یہ ذات ہونے لگی نہ ...

مزید پڑھیے

محبتیں تو ملیں گو وفا ملی نہ ملی

محبتیں تو ملیں گو وفا ملی نہ ملی سفر حسین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی نہ دوستوں سے توقع نہ دشمنوں سے گریز یہ دل تھا گور غریباں شمع جلی نہ جلی عجب سا حبس ہے انسانیت کے ذہنوں میں کسے ہو فکر کہ باد صبا چلی نہ چلی ترے وصال کے لمحوں کو منجمد کر لوں شب فراق کا کیا ہے ڈھلی ڈھلی نہ ...

مزید پڑھیے

اپنی ہستی میں سمٹتی جا رہی ہوں

اپنی ہستی میں سمٹتی جا رہی ہوں ساری دنیا سے میں کٹتی جا رہی ہوں ریت پر لکھے ہوئے اک نام جیسی میں ہوا کے ساتھ مٹتی جا رہی ہوں دیکھ کر فوج رقیباں گامزن میں راستے سے خود ہی ہٹتی جا رہی ہوں زیست کا تھی میں مکمل اک فسانہ کس لئے قسطوں میں بٹتی جا رہی ہوں

مزید پڑھیے

چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلوم

چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلوم کتنے رنگ بدلے گی زندگی خدا معلوم کل تو خیر اے رہبر تیرے ساتھ رہرو تھے آج کس پہ ہنستی ہے گمرہی خدا معلوم اب بھی صبح ہوتی ہے اب بھی دن نکلتا ہے جا چھپی کہاں لیکن روشنی خدا معلوم راستی گریزاں ہے آشتی ہراساں ہے کس سے کس سے الجھے گا آدمی خدا معلوم اب ...

مزید پڑھیے

خواب پلکوں پہ مری آ کے مچل جاتے ہیں

خواب پلکوں پہ مری آ کے مچل جاتے ہیں یا کبھی بن کے گہر آنکھ سے ڈھل جاتے ہیں مجھ کو گوشہ کوئی مانوس سا جو لگتا ہے لوگ دیوار پہ تصویر بدل جاتے ہیں کل وہ عالم تھا کہ اک جان تھی دو قالب تھے آج یہ ہے کہ وہ کترا کے نکل جاتے ہیں ہم کو طوفان حوادث کا کوئی خوف نہیں یہ جو آتے ہیں تو کچھ ہم ...

مزید پڑھیے

کسی سانچے میں ڈھل نہیں پاتی

کسی سانچے میں ڈھل نہیں پاتی زندگی کیوں سنبھل نہیں پاتی ناگہانی کا خوف ایسا ہے کوئی امید پل نہیں پاتی برسہا سے مرے فراق میں ہے پھر بھی مجھ کو اجل نہیں آتی دور اینٹھن کی تو ہے بات کجا مجھ سے رسی بھی جل نہیں پاتی اس نے اچھا کیا کنارہ کیا دور تک میں بھی چل نہیں پاتی نکہت گل کی کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 243 سے 4657