بتاؤں میں تمہیں آنکھوں میں آنسو یا لہو کیا ہے
بتاؤں میں تمہیں آنکھوں میں آنسو یا لہو کیا ہے کبھی اے کاش تم پوچھو کہ میری آرزو کیا ہے میں تیری آہٹیں پاتا ہوں کلیوں کے چٹکنے میں گلستاں میں بجز جلووں کے تیرے رنگ و بو کیا ہے اسی کو درد کہتا ہے اسی کو درد کا درماں نہیں یہ عشق تو اے دل بتا پھر جستجو کیا ہے صفائی پیش کرتے ہو جو ...