شاعری

تھی میرے دل کی پیاس تپش دشت کی نہ تھی

تھی میرے دل کی پیاس تپش دشت کی نہ تھی بجھتی سمندروں سے یہ وہ تشنگی نہ تھی خود میں مگن تھے لوگ کوئی بے خودی نہ تھی دیوانگی کا ڈھونگ تھا دیوانگی نہ تھی رستہ بھی اب تو بھول گئے اپنے گھر کا ہم وارفتگی تو تھی مگر اتنی کبھی نہ تھی اپنی صدا کی گونج تھی صحرائے زیست میں اس کے سوا کہیں ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسے جذبۂ تحقیر سے زمانہ ملا

کچھ ایسے جذبۂ تحقیر سے زمانہ ملا کہ اس سے اپنا یہ خوددار دل ذرا نہ ملا بچھڑ کے رہ گئے خود سے جو گم ہوئے اس میں ہزار ڈھونڈا مگر اپنا کچھ پتا نہ ملا وہ شور کار گہہ زندگی میں تھا برپا کوئی جواب مجھے اپنی بات کا نہ ملا بلا کی تیز خرامی تھی ہر مسافر میں عدم کی راہ میں کوئی شکستہ پا نہ ...

مزید پڑھیے

سانحہ روز نیا ہو تو غزل کیا کہیے

سانحہ روز نیا ہو تو غزل کیا کہیے ہر طرف حشر بپا ہو تو غزل کیا کہیے بربریت پہ ہی قدغن ہے نہ سفاکی پر رقص ابلیس روا ہو تو غزل کیا کہیے تیر باراں میرے پندار پہ ہیں اہل جفا عزت نفس فنا ہو تو غزل کیا کہیے بولنا بھی یہاں دشوار ہے چپ رہنا بھی قفل ہونٹوں پہ لگا ہو تو غزل کیا کہیے ایک ...

مزید پڑھیے

زرد پتوں کو ہوا ساتھ لئے پھرتی ہے

زرد پتوں کو ہوا ساتھ لئے پھرتی ہے دم گزیدہ ہیں قضا ساتھ لئے پھرتی ہے راکھ ہو جائے نہ فاقوں کے جہنم میں حیات بے کسی اپنی چتا ساتھ لئے پھرتی ہے ماں کے ہونٹوں سے تھی نکلی دم رخصت جو دعا مجھ کو اب تک وہ دعا ساتھ لئے پھرتی ہے آس کی راکھ میں ڈھونڈیں نئی امید کوئی زندگی بیم و رجا ساتھ ...

مزید پڑھیے

مضمحل قدموں پہ بار

مضمحل قدموں پہ بار گردش لیل و نہار دل ہے کوئے یار میں سر چلا ہے سوئے دار گنبد بے در کی گونج بند ہونٹوں کی پکار ڈھانپ لو خالی شکم ہو چکے فاقے شمار کھا گئی دہقان کو سبز کھیتوں کی قطار مدفن محنت کشاں کارخانوں کے مزار منزلیں ہیں بے نشاں راستے گرد و غبار تن بہت دھویا ربابؔ میل ...

مزید پڑھیے

ہزار صبح نے کرنوں کے جال پھیلائے

ہزار صبح نے کرنوں کے جال پھیلائے مگر سمٹ نہ سکے رات کے گھنے سائے طواف کرتی ہے منزل اسی مسافر کا جو راستوں کے خم و پیچ سے نہ گھبرائے یہ انتظار کی گھڑیاں بڑی غنیمت ہیں خدا کرے کہ یوں ہی زندگی گزر جائے شمیم گل سے کسی پیرہن کی خوشبو تک تھے سلسلے ہی کچھ ایسے کہ جو نہ راس آئے خیال ...

مزید پڑھیے

ہر قدم پر اک نیا دکھ خیر خواہوں سے ملا

ہر قدم پر اک نیا دکھ خیر خواہوں سے ملا کب ہمیں کوئی تحفظ ان پناہوں سے ملا خود نمائی کے سوا کیا کج کلاہوں سے ملا صرف اک جھوٹا تفاخر تھا جو شاہوں سے ملا لوگ خالی ہاتھ آئے ہیں جہاں سے لوٹ کر درد کا تحفہ ہمیں ان بارگاہوں سے ملا ایک مرکز پر ہوئے یکجا کہاں پست و بلند کب فقیروں کا ...

مزید پڑھیے

عمر ابد کا ماحصل عشق کا دور ناتمام

عمر ابد کا ماحصل عشق کا دور ناتمام ہائے وہ مستیٔ سحر ہائے وہ بے خودئ شام پہلے مآل سوچ لیں ہم سفران سست گام میری سرشت میں نہیں خواہش منزل و مقام طائر خستہ بال کو دام بھی کنج آشیاں مرغ چمن نورد کو گوشۂ آشیاں بھی دام اب بھی خدا پرست ہے دیر و حرم کی قید میں ہائے نگاہ نا رسا ہائے ...

مزید پڑھیے

یاد میں تیری دو عالم کو بھلانا ہے ہمیں

یاد میں تیری دو عالم کو بھلانا ہے ہمیں عمر بھر اب کہیں آنا ہے نہ جانا ہے ہمیں کہتے ہیں عشق کا انجام برا ہوتا ہے اب تو کچھ بھی ہو محبت کو نبھانا ہے ہمیں خلش عشق سے بے چین ہے دل ایک طرف اس پہ یا رب غم ہستی بھی اٹھانا ہے ہمیں ہائے وہ آگ جو مشکل سے جلی تھی دل میں آج اس آگ کے شعلوں کو ...

مزید پڑھیے

جاں رہے نوچتے حیات کے دکھ

جاں رہے نوچتے حیات کے دکھ ذات کے اور کائنات کے دکھ کچھ بگاڑا نہ وقت نے ان کا ہیں جواں اب بھی میرے ساتھ کے دکھ روزمرہ کا بن گئے معمول روزمرہ معاملات کے دکھ فتح نے بھی شکست و ریخت ہی دی جیت سے منسلک تھے مات کے دکھ رہ گیا اب جنوں ہی کم آمیز عشق میں تو ہیں بات بات کے دکھ ہم غریبوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 222 سے 4657