شاعری

کبھی خواہش جو اس دل کی پرانی چیخ پڑتی ہے

کبھی خواہش جو اس دل کی پرانی چیخ پڑتی ہے تو پھر آنکھوں میں اک ڈوری گلابی چیخ پڑتی ہے لگا کر زخم پر پہرے سلا کے دل کے سارے غم میں جب بھی ہنسنا چاہوں تو اداسی چیخ پڑتی ہے مری الھڑ جواں زلفوں کو ابیض دیکھ کر لوگوں بزرگی مسکراتی ہے جوانی چیخ پڑتی ہے رقم جب بھی میں اپنا درد کرتی ہوں ...

مزید پڑھیے

عشق سے یار بغاوت نہیں کرنے والے

عشق سے یار بغاوت نہیں کرنے والے اب ترے قلب سے ہجرت نہیں کرنے والے یعنی ہم تیری جگہ اور کسی کو دے کر دوسری بار محبت نہیں کرنے والے ظلم کرنا ہے کرو تم کو اجازت ہے کہ ہم رب سے کیا خود سے شکایت نہیں کرنے والے ہجر کے زخم پہ قربت کا لگا کر مرہم اپنے زخموں کی حمایت نہیں کرنے والے دل کے ...

مزید پڑھیے

ترے آنے سے حرکت آ گئی ہے

ترے آنے سے حرکت آ گئی ہے طبیب آ دیکھ رنگت آ گئی ہے تمہارے پھول سوکھے جا رہے ہیں کتابوں کو خیانت آ گئی ہے نگوں تھا سر مصلے پر ذرا دیر میں سمجھا تھا عبادت آ گئی ہے تبھی دل دوں گا جب دل بھی ملے گا مجھے بھی اب تجارت آ گئی ہے دلوں کا حال کہہ سن لیتا ہے وہ اسے پاس رفاقت آ گئی ہے

مزید پڑھیے

تیرے جانے سے میرا اور تو کیا ہونا ہے

تیرے جانے سے میرا اور تو کیا ہونا ہے پیڑ سے ٹوٹا ہوا برگ فنا ہونا ہے جب تلک ہے یہ سفر مسکرا کے ساتھ چلو منزلیں آتے ہی دونوں کو جدا ہونا ہے یاد ماضی کی رضائی کو رکھو ساتھ اپنے شب دسمبر کی ہے راتوں کو بڑا ہونا ہے پھول تو گر کے زمیں دوز ہو جائیں گے پر خوشبوؤں کو تو ابھی باد صبا ہونا ...

مزید پڑھیے

برائے زیب میں زیور تمہیں منگا دوں کیا

برائے زیب میں زیور تمہیں منگا دوں کیا یہ بول کے میں تیرے حسن کو گھٹا دوں کیا تھکا ہوا ہوں میں سونے دیا کرو مجھ کو یہ کہہ کے میں تیری نیندوں کو ہی اڑا دوں کیا ندی میں پھینکے ہوئے پھول بہہ رہے ہیں کچھ انہیں کے ساتھ خطوں کو تیرے بہا دوں کیا یہ جسم سنگ کا اب رہ گیا ہے تیرے بعد اسے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو کوئی غم و خوشی ہی نہیں

مجھ کو کوئی غم و خوشی ہی نہیں کیا مری کوئی زندگی ہی نہیں جب دعائیں قبول ہونے لگیں تب سے یہ لطف بندگی ہی نہیں شوق سے دیکھنے گئے تھے طور اور خدا پہ نظر ٹکی ہی نہیں ہاتھ ان کا ہو ہاتھ میں لکھا ایسی قسمت میری لکھی ہی نہیں موت برحق سمجھ لیا جس نے غم اسے کوئی دائمی ہی نہیں سب برابر ...

مزید پڑھیے

گزشتہ دن کی اک تصویر میں نے گھر پہ رکھی تھی

گزشتہ دن کی اک تصویر میں نے گھر پہ رکھی تھی وہ بس اس بات کو لے کے ہی دھرتی سر پہ رکھی تھی مرو یا مار دو گر بچ گئے تو پھر رہو تیار عجب شرط حکومت تھی کہ جو لشکر پہ رکھی تھی ترے در سے اٹھی تو پھر کہیں بھی یہ نہ ٹک پائیں نگہ کچھ اس قدر تیرے تن مرمر پہ رکھی تھی سبھی دانا توانا دست بستہ ...

مزید پڑھیے

تمنائیں اذیت کا نظارہ ہم نہ کہتے تھے

تمنائیں اذیت کا نظارہ ہم نہ کہتے تھے خسارا ہے خسارا ہی خسارا ہم نہ کہتے تھے تمہاری انتہائیں انت پر بے سود نکلی ہیں سمندر جتنا گہرا اتنا کھارا ہم نہ کہتے تھے نہ تو بندوں سے ہے راضی نہ بندے تجھ سے راضی ہیں خدائی روگ ہے پروردگارا ہم نہ کہتے تھے یہ میدان تگ و دو ہے مشقت ہی مشقت ...

مزید پڑھیے

ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے رو دیتے ہیں (ردیف .. ے)

ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے رو دیتے ہیں گل سے تتلی کو اڑاتے ہوئے رو دیتے ہیں اس نے ہنستے ہوئے توڑا تھا ہمارا رشتہ ہم سبھی کو یہ بتاتے ہوئے رو دیتے ہیں میں ہوں ویران جزیرہ جہاں اہل کشتی اپنی راتوں کو بتاتے ہوئے رو دیتے ہیں رات بھر جلنے کے بھی بعد ہم افسردہ مزاج صبح دم شمع بجھاتے ...

مزید پڑھیے

جب وہ ملنے کمرے تک کو آتا ہے

جب وہ ملنے کمرے تک کو آتا ہے گھر میرا پھر جنت سا ہو جاتا ہے نیند کہاں رہ جاتی ہے پھر آنکھوں میں چاند کسی ٹہنی پہ جب ٹک جاتا ہے جس موسم میں بھیگنا ہے ہم دونوں کو اس موسم میں پوچھ رہی ہو چھاتا ہے چھوڑ چلو اس بستی کو اس بستی میں کون کہاں کس کا کس سے اب ناطہ ہے چودھویں کو چھت پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 146 سے 4657