کبھی خواہش جو اس دل کی پرانی چیخ پڑتی ہے
کبھی خواہش جو اس دل کی پرانی چیخ پڑتی ہے تو پھر آنکھوں میں اک ڈوری گلابی چیخ پڑتی ہے لگا کر زخم پر پہرے سلا کے دل کے سارے غم میں جب بھی ہنسنا چاہوں تو اداسی چیخ پڑتی ہے مری الھڑ جواں زلفوں کو ابیض دیکھ کر لوگوں بزرگی مسکراتی ہے جوانی چیخ پڑتی ہے رقم جب بھی میں اپنا درد کرتی ہوں ...