شاعری

مری آہ و فغاں سے بے سماعت ہو گئے ہو کیا

مری آہ و فغاں سے بے سماعت ہو گئے ہو کیا ابھی تو ابتدا کی ہے ابھی سے سو گئے ہو کیا بھرے بازار میں تنہائیوں کو ڈھونڈنے والو مرے ذوق جنوں میں تم بھی شامل ہو گئے ہو کیا وہ گل جس کے لئے یہ آسماں موسم بدلتا ہے اسی کا بیج میری خاک جاں میں بو گئے ہو کیا کوئی آواز کیوں دیتے نہیں سانسوں کے ...

مزید پڑھیے

ذہن پریشاں ہو جاتا ہے اور بھی کچھ تنہائی میں

ذہن پریشاں ہو جاتا ہے اور بھی کچھ تنہائی میں تازہ ہو جاتی ہیں چوٹیں سب جیسے پروائی میں اس کو تو جانا تھا لیکن میرا کیوں یہ حال ہوا انگنائی سے کمرے میں اور کمرے سے انگنائی میں اس کے دل کا بھید اسی کی آنکھوں سے مل سکتا تھا کس میں ہمت ہے جو اترے جھیلوں کی گہرائی میں ایک ہی گھر کے ...

مزید پڑھیے

ہم جو گر کر سنبھل جائیں گے

ہم جو گر کر سنبھل جائیں گے راستے خود بدل جائیں گے قہقہوں کو ذرا روکئے ورنہ آنسو مچل جائیں گے دوستوں کے ٹھکانے بہت آستینوں میں پل جائیں گے نور ہم سے طلب تو کرو ہم چراغوں میں ڈھل جائیں گے آئینوں سے نہ روٹھا کرو ورنہ چہرے بدل جائیں گے دیکھیے مجھ کو مت دیکھیے لوگ دیکھیں گے جل ...

مزید پڑھیے

پھر گھڑی آ گئی اذیت کی

پھر گھڑی آ گئی اذیت کی اس کی یادوں نے پھر شرارت کی جب کھلیں گتھیاں حقیقت کی دھجیاں اڑ گئیں شرافت کی سچ بتاؤ کبھی ہوا ایسا سچ بتاؤ کبھی شکایت کی خود سے اپنا مزاج بھی پوچھوں گر میسر گھڑی ہو فرصت کی کتنے چہروں کے رنگ زرد پڑے آج سچ بول کر حماقت کی سچ سے ہرگز گریز مت کرنا ہے اگر ...

مزید پڑھیے

مجھ سے بڑھ کر ہے کہیں ان کا مقام اے ساقی

مجھ سے بڑھ کر ہے کہیں ان کا مقام اے ساقی مست رہتے ہیں جو بے بادۂ و جام اے ساقی قطرے قطرے کو پھریں تیرے سبو کش لاچار ہے یہ کس کے لیے غیرت کا مقام اے ساقی مرحمت سے تری ہو جائیں نہ میکش بددل سنگ دل ہے تری محفل کا نظام اے ساقی زیبؔ بھی عرض حقیقت میں ہے اکثر محتاط اہل محفل میں یہ احساس ...

مزید پڑھیے

خود کو دنیا میں جو راضی بہ رضا کہتے ہیں

خود کو دنیا میں جو راضی بہ رضا کہتے ہیں اپنی ہستی سے وہ اک بات سوا کہتے ہیں موت آتی ہے تو اک فرض ادا ہوتا ہے ان کو دھوکا ہے قضا کو جو قضا کہتے ہیں درد دل کو تری یک گونہ مراعات سے ہے نکتہ چیں اس کو بھی انداز جفا کہتے ہیں حرم و دیر ہوئے ترک عمل سے رسوا دیکھیے اہل عقیدت اسے کیا کہتے ...

مزید پڑھیے

خاک پر ہی مرے آنسو ہیں نہ دامن میں کہیں (ردیف .. ا)

خاک پر ہی مرے آنسو ہیں نہ دامن میں کہیں جو تری راہ میں کھویا گیا پایا نہ گیا سبب خندۂ گل گل کو نہیں خود معلوم اس طرح کوئی بھی دیوانہ بنایا نہ گیا مختلف نغمہ سے ہے قلب مغنی کا راز جو لب ساز پہ بھی بزم میں لایا نہ گیا رکھ دیا خلق نے نام اس کا قیامت اے زیبؔ کوئی فتنہ جو زمانے سے ...

مزید پڑھیے

ہجر کی رت میں تڑپتی و سسکتی آنکھیں

ہجر کی رت میں تڑپتی و سسکتی آنکھیں مجھ سے دیکھی نہیں جاتیں یہ تمہاری آنکھیں وقت کالج میں کتابوں کے احاطے میں گھری ہائے کس طرح میں بھولوں وہ کتابی آنکھیں چہرہ ایسا کہ جو دیکھے کہے سبحان اللہ ذکر کرتے ہوئے لب ہیں تو نمازی آنکھیں اے مصور کوئی تصویر بنا مجھ جیسی چہرہ ہو غم کا بدل ...

مزید پڑھیے

قلب میں خواہشیں مدغم نہیں کرنے والے

قلب میں خواہشیں مدغم نہیں کرنے والے ماسوا رب کہیں سر خم نہیں کرنے والے دل کے زخموں میں تجھے دے کے جگہ ہم دل کو وحشت و چین کا سنگم نہیں کرنے والے تجھ کو جانا ہے تو جا پوری اجازت ہے تجھے ہم ترے بعد ترا غم نہیں کرنے والے درد ہو لاکھ یا سینے سے لہو رستا ہو شبنمی آنکھ کا موسم نہیں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو بھی اس سے عشق تھا الفت غضب کی تھی

مجھ کو بھی اس سے عشق تھا الفت غضب کی تھی اس کو بھی مجھ حقیر سے چاہت غضب کی تھی وہ لڑکی جو نصیب پہ روتی تھی رات بھر گلیوں میں اس کے حسن کی شہرت غضب کی تھی ہنستے ہوئے لبوں کو وہ ہلکے سے کاٹنا واللہ اس حسین کی عادت غضب کی تھی جانے سے اس کے باغ میں عالم خزاں کا تھا سوکھے گلوں میں قید ...

مزید پڑھیے
صفحہ 145 سے 4657