مری آہ و فغاں سے بے سماعت ہو گئے ہو کیا
مری آہ و فغاں سے بے سماعت ہو گئے ہو کیا ابھی تو ابتدا کی ہے ابھی سے سو گئے ہو کیا بھرے بازار میں تنہائیوں کو ڈھونڈنے والو مرے ذوق جنوں میں تم بھی شامل ہو گئے ہو کیا وہ گل جس کے لئے یہ آسماں موسم بدلتا ہے اسی کا بیج میری خاک جاں میں بو گئے ہو کیا کوئی آواز کیوں دیتے نہیں سانسوں کے ...