شاعری

میں نے کب برق تپاں موج بلا مانگی تھی

میں نے کب برق تپاں موج بلا مانگی تھی گنگناتی ہوئی ساون کی گھٹا مانگی تھی دشت و صحرا سے گزرتی ہوئی تنہائی نے راستے بھر کے لئے اس کی صدا مانگی تھی وہ تھا دشمن مرا ہارا تو بہت زخمی تھا میں نے ہی اس کے لئے شاخ حنا مانگی تھی سائباں دھوپ کا کیوں سر پہ مرے تان دیا اے خدا میں نے تو بادل ...

مزید پڑھیے

ہوا کی اندھی پناہوں میں مت اچھال مجھے

ہوا کی اندھی پناہوں میں مت اچھال مجھے زمیں حصار کشش سے نہ تو نکال مجھے سوائے رنج ندامت نہ کچھ ملا تم کو میں کہہ رہا تھا بناؤ نہ تم مثال مجھے شکست دل نے عجب غم کو صورتیں دی ہیں رفاقتوں کی گھڑی ہے ذرا سنبھال مجھے میں خواب خواب جزیروں کی سیر کو نکلوں اٹھا کے پردۂ شب حیرتوں میں ڈال ...

مزید پڑھیے

خورشید کی بیٹی کہ جو دھوپوں میں پلی ہے

خورشید کی بیٹی کہ جو دھوپوں میں پلی ہے تہذیب کی دیوار کے سائے میں کھڑی ہے دھندلا گئے رنجش میں اس آواز کے شیشے برسوں جو سماعت سے ہم آغوش رہی ہے اب تک ہے وہی سلسلۂ خانہ خرابی اے عشق ستم پیشہ تری عمر بڑی ہے ہم آئیں تو غیروں کی طرح بزم میں بیٹھیں اے صاحب خانہ تری یہ شرط کڑی ...

مزید پڑھیے

کہاں میں جاؤں غم عشق رائیگاں لے کر

کہاں میں جاؤں غم عشق رائیگاں لے کر یہ اپنے رنج یہ اپنی اداسیاں لے کر جلا ہے دل یا کوئی گھر یہ دیکھنا لوگو ہوائیں پھرتی ہیں چاروں طرف دھواں لے کر بس اک ہمارا لہو صرف قتل گاہ ہوا کھڑے ہوئے تھے بہت اپنے جسم و جاں لے کر نئے گھروں میں نہ روزن تھے اور نہ محرابیں پرندے لوٹ گئے اپنے ...

مزید پڑھیے

پھر دل کو روز و شب کی وہی عید چاہئے

پھر دل کو روز و شب کی وہی عید چاہئے ٹوٹے تعلقات کی تجدید چاہئے خالی نہیں ہے ایک بھی بستر مکان میں اک خواب دیکھنے کے لیے نیند چاہئے ہم مانگتے رہے ترے رخسار و لب کی خیر اے صاحب جمال تری دید چاہئے ہم کو تو اک رفاقت آشفتہ سر بہت ان کو ہجوم راہ کی تائید چاہئے ہر آستیں کے خون نے قاتل ...

مزید پڑھیے

اپنے گھر کے در و دیوار کو اونچا نہ کرو

اپنے گھر کے در و دیوار کو اونچا نہ کرو اتنا گہرا مری آواز سے پردا نہ کرو جو نہ اک بار بھی چلتے ہوئے مڑ کے دیکھیں ایسی مغرور تمناؤں کا پیچھا نہ کرو ہو اگر ساتھ کسی شوخ کی خوشبوئے بدن راہ چلتے ہوئے مہ پاروں کو دیکھا نہ کرو کل نہ ہو یہ کہ مکینوں کو ترس جائے یہ دل دل کے آسیب کا ہر ایک ...

مزید پڑھیے

شوق عریاں ہے بہت جن کے شبستانوں میں

شوق عریاں ہے بہت جن کے شبستانوں میں وہ ملے ہم کو حجابوں کے صنم خانوں میں کھڑکیاں کھولو کہ در آئے کوئی موج ہوا راکھ کا ڈھیر ہیں کچھ لوگ طرب خانوں میں شہر خورشید کے لوگوں کو خبر دو کوئی دن کے غم ڈوب گئے رات کے پیمانوں میں جب کوئی ساعت شاداب ملی جام بکف جان سی پڑ گئی بجھتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

ہم بچھڑ کے تم سے بادل کی طرح روتے رہے

ہم بچھڑ کے تم سے بادل کی طرح روتے رہے تھک گئے تو خواب کی دہلیز پر سوتے رہے زندگی نے ہاتھ سے خنجر نہ رکھا ایک پل ہم قتیل غمزہ و ناز بتاں ہوتے رہے لوک لہجے کا سہانا پن سخن کی نغمگی شہر کی آبادیوں کے شور میں کھوتے رہے کیوں متاع دل کے لٹ جانے کا کوئی غم کرے شہر دلی میں تو ایسے واقعے ...

مزید پڑھیے

شام ہونے والی تھی جب وہ مجھ سے بچھڑا تھا زندگی کی راہوں میں

شام ہونے والی تھی جب وہ مجھ سے بچھڑا تھا زندگی کی راہوں میں صبح جب میں جاگا تھا وہ جو مجھ سے بچھڑا تھا سو رہا تھا باہوں میں میکدے میں سب کے سب جام ہاتھ میں لے کر دوستوں میں بیٹھے تھے دور لوگ مسجد میں رب کو یاد کرتے تھے دل کی بارگاہوں میں وہ زمیں کے شہزادے تیر اور کماں لے کر جنگلوں ...

مزید پڑھیے

وہ آ گیا تو سارا پری خانہ جی اٹھا

وہ آ گیا تو سارا پری خانہ جی اٹھا آرائش جمال سے آئینہ جی اٹھا مجھ تک پہنچ گیا تو بڑی بات جانیے آواز پا سے جس کی مرا زینہ جی اٹھا یاران مے کدہ جو کبھی یاد آ گئے مجھ میں خمار محفل پارینہ جی اٹھا تھے دیدنی لباسوں میں ترشے ہوئے بدن اوڑھی جو اس نے شال تو پشمینہ جی اٹھا چائے کی میز پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 121 سے 4657