میں نے کب برق تپاں موج بلا مانگی تھی
میں نے کب برق تپاں موج بلا مانگی تھی گنگناتی ہوئی ساون کی گھٹا مانگی تھی دشت و صحرا سے گزرتی ہوئی تنہائی نے راستے بھر کے لئے اس کی صدا مانگی تھی وہ تھا دشمن مرا ہارا تو بہت زخمی تھا میں نے ہی اس کے لئے شاخ حنا مانگی تھی سائباں دھوپ کا کیوں سر پہ مرے تان دیا اے خدا میں نے تو بادل ...