شاعری

ہے دھوپ کبھی سایہ شعلہ ہے کبھی شبنم

ہے دھوپ کبھی سایہ شعلہ ہے کبھی شبنم لگتا ہے مجھے تم سا دل کا تو ہر اک موسم بیتے ہوئے لمحوں کی خوشبو ہے مرے گھر میں بک ریک پہ رکھے ہیں یادوں کے کئی البم کمرے میں پڑے تنہا اعصاب کو کیوں توڑو نکلو تو ذرا باہر دیتا ہے صدا موسم کس درجہ مشابہ ہو تم میرؔ کی غزلوں سے لہجے کی وہی نرمی ...

مزید پڑھیے

بھولی بسری ہوئی یادوں میں کسک ہے کتنی

بھولی بسری ہوئی یادوں میں کسک ہے کتنی ڈوبتی شام کے اطراف چمک ہے کتنی منظر گل تو بس اک پل کے لیے ٹھہرا تھا آتی جاتی ہوئی سانسوں میں مہک ہے کتنی گر کے ٹوٹا نہیں شاید وہ کسی پتھر پر اس کی آواز میں تابندہ کھنک ہے کتنی اپنی ہر بات میں وہ بھی ہے حسینوں جیسا اس سراپے میں مگر نوک پلک ہے ...

مزید پڑھیے

ہم باد صبا لے کے جب گھر سے نکلتے تھے

ہم باد صبا لے کے جب گھر سے نکلتے تھے ہر راہ میں رکتے تھے ہر در پہ ٹھہرتے تھے ویرانہ کوئی ہم سے دیکھا نہیں جاتا تھا دیوار اٹھاتے تھے دروازے بدلتے تھے آوارہ سے ہم لڑکے راتوں کو پھرا کرتے ہم سرو چراغاں تھے چوراہوں پہ جلتے تھے یہ خاک جہاں ان کے قدموں سے لپٹ جاتی جو راہ کے کانٹوں کو ...

مزید پڑھیے

کچھ دنوں اس شہر میں ہم لوگ آوارہ پھریں

کچھ دنوں اس شہر میں ہم لوگ آوارہ پھریں اور پھر اس شہر کے لوگوں کا افسانہ لکھیں شام ہو تو دوستوں کے ساتھ مے خانے چلیں صبح تک پھر رات کے طاقوں میں بے مصرف جلیں مدتیں گزریں ہم اس کی راہ سے گزرے نہیں آج اس کی راہ جانے کے بہانے ڈھونڈ لیں شہر کے دکھ کا مداوا ڈھونڈ لو چارہ گرو اس سے ...

مزید پڑھیے

برسوں میں تجھے دیکھا تو احساس ہوا ہے

برسوں میں تجھے دیکھا تو احساس ہوا ہے ہر زخم تری یاد کا اندر سے ہرا ہے وہ کون تھا کس سمت گیا ڈھونڈ رہا ہوں زنجیر در دل کوئی کھٹکا کے گیا ہے جی چاہے اسے وقت کے ہاتھوں سے اڑا لے جو روح کی خاموش گپھاؤں میں ملا ہے پتھر کے صنم پوجو کہ مٹی کے خداوند ہر باب کرم دیر ہوئی بند پڑا ہے پوچھو ...

مزید پڑھیے

ہم بچھڑ کے تم سے بادل کی طرح روتے رہے

ہم بچھڑ کے تم سے بادل کی طرح روتے رہے تھک گئے تو خواب کی دہلیز پر سوتے رہے لوگ لہجے کا سہانا پن سخن کی نغمگی شہر کی آبادیوں کے شور میں کھوتے رہے کیوں متاع دل کے لٹ جانے کا کوئی غم کرے شہر دلی میں تو ایسے واقعے ہوتے رہے سرخیاں اخبار کی گلیوں میں غل کرتی رہیں لوگ اپنے بند کمروں ...

مزید پڑھیے

تھا حرف شوق صید ہوا کون لے گیا

تھا حرف شوق صید ہوا کون لے گیا میں جس کو سن سکوں وہ صدا کون لے گیا اک میں ہی جامہ پوش تھا عریانیوں کے بیچ مجھ سے مری عبا و قبا کون لے گیا احساس بکھرا بکھرا سا ہارا ہوا بدن چڑھتی حرارتوں کا نشہ کون لے گیا باتوں کا حسن ہے نہ کہیں شوخی بیاں شہر نوا سے حرف و صدا کون لے گیا میں کب سے ...

مزید پڑھیے

ہم دونوں میں کوئی نہ اپنے قول و قسم کا سچا تھا

ہم دونوں میں کوئی نہ اپنے قول و قسم کا سچا تھا آپس میں بس ایک پرانا ٹوٹا پھوٹا رشتہ تھا دل کی دیواروں پہ ہم نے آج بھی سیلن دیکھی ہے جانے کب آنکھیں روئی تھیں جانے کب بادل برسا تھا خواب نگر تک آتے آتے ٹوٹ گئے ہم جیسے لوگ اونچی نیچی راہ بہت تھی سارا رستہ کچا تھا پورا بادل پوری بارش ...

مزید پڑھیے

دل کو رنجیدہ کرو آنکھ کو پر نم کر لو

دل کو رنجیدہ کرو آنکھ کو پر نم کر لو مرنے والے کا کوئی دیر تو ماتم کر لو وہ ابھی لوٹے ہیں ہارے ہوئے لشکر کی طرح ساز ہائے طرب انگیز ذرا کم کر لو سنسناتے ہیں ہر اک سمت ہواؤں کے بھنور اپنے بکھرے ہوئے اطراف کو باہم کر لو اتنے تنہا ہو تو اس ساعت بے مصرف میں اپنی آنکھوں میں کوئی چہرہ ...

مزید پڑھیے

زندگی ایسے گھروں سے تو کھنڈر اچھے تھے

زندگی ایسے گھروں سے تو کھنڈر اچھے تھے جن کی دیوار ہی اچھی تھی نہ در اچھے تھے ان کی جنت میں رہے ہم تو یہ احساس ہوا اپنے ویرانوں میں ہم خاک بسر اچھے تھے بند تھی ہم پہ وہی راہ گلستاں کہ جہاں سایہ کرتے ہوئے دو رویہ شجر اچھے تھے عمر کی اندھی گپھاؤں کا سفر لمبا تھا وہ تو کہئے کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 122 سے 4657