ہے دھوپ کبھی سایہ شعلہ ہے کبھی شبنم
ہے دھوپ کبھی سایہ شعلہ ہے کبھی شبنم لگتا ہے مجھے تم سا دل کا تو ہر اک موسم بیتے ہوئے لمحوں کی خوشبو ہے مرے گھر میں بک ریک پہ رکھے ہیں یادوں کے کئی البم کمرے میں پڑے تنہا اعصاب کو کیوں توڑو نکلو تو ذرا باہر دیتا ہے صدا موسم کس درجہ مشابہ ہو تم میرؔ کی غزلوں سے لہجے کی وہی نرمی ...