شاعری

بول پڑتے ہیں ہم جو آگے سے

بول پڑتے ہیں ہم جو آگے سے پیار بڑھتا ہے اس رویے سے میں وہی ہوں یقیں کرو میرا میں جو لگتا نہیں ہوں چہرے سے ہم کو نیچے اتار لیں گے لوگ عشق لٹکا رہے گا پنکھے سے سارا کچھ لگ رہا ہے بے ترتیب ایک شے آگے پیچھے ہونے سے ویسے بھی کون سی زمینیں تھیں میں بہت خوش ہوں عاق نامے سے یہ محبت وہ ...

مزید پڑھیے

اسی ندامت سے اس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں

اسی ندامت سے اس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں کہ ہم چھڑی کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے ہیں یہاں سے جانے کی جلدی کس کو ہے تم بتاؤ کہ سوٹ کیسوں میں کپڑے کس نے رکھے ہوئے ہیں کرا تو لوں گا علاقہ خالی میں لڑ جھگڑ کر مگر جو اس نے دلوں پہ قبضے کیے ہوئے ہیں وہ خود پرندوں کا دانہ لینے گیا ہوا ہے اور ...

مزید پڑھیے

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لئے

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لئے ورنہ میں آتا مشورے کے لئے تم کو اچھے لگے تو تم رکھ لو پھول توڑے تھے بیچنے کے لئے گھنٹوں خاموش رہنا پڑتا ہے آپ کے ساتھ بولنے کے لئے سیکڑوں کنڈیاں لگا رہا ہوں چند بٹنوں کو کھولنے کے لئے ایک دیوار باغ سے پہلے اک دوپٹا کھلے گلے کے لئے ترک اپنی فلاح کر دی ...

مزید پڑھیے

تم نے بھی ان سے ہی ملنا ہوتا ہے

تم نے بھی ان سے ہی ملنا ہوتا ہے جن لوگوں سے میرا جھگڑا ہوتا ہے اس کے گاؤں کی ایک نشانی یہ بھی ہے ہر نلکے کا پانی میٹھا ہوتا ہے میں اس شخص سے تھوڑا آگے چلتا ہوں جس کا میں نے پیچھا کرنا ہوتا ہے تم میری دنیا میں بالکل ایسے ہو تاش میں جیسے حکم کا اکا ہوتا ہے کتنے سوکھے پیڑ بچا سکتے ...

مزید پڑھیے

ایسے اس ہاتھ سے گرے ہم لوگ

ایسے اس ہاتھ سے گرے ہم لوگ ٹوٹتے ٹوٹتے بچے ہم لوگ اپنا قصہ سنا رہا ہے کوئی اور دیوار کے بنے ہم لوگ وصل کے بھید کھولتی مٹی چادریں جھاڑتے ہوئے ہم لوگ اس کبوتر نے اپنی مرضی کی سیٹیاں مارتے رہے ہم لوگ پوچھنے پر کوئی نہیں بولا کیسے دروازہ کھولتے ہم لوگ حافظے کے لیے دوا کھائی اور ...

مزید پڑھیے

اس نے آخر دیا جلانا ہے

اس نے آخر دیا جلانا ہے شام کو میں نے ڈوب جانا ہے پھر سرا کوئی ہاتھ آئے گا بس کڑی سے کڑی ملانا ہے میری پرواز میں یہ حائل ہے راہ سے آسماں ہٹانا ہے دل کی باتیں تمام کہہ دوں گا بس تمہیں حوصلہ بڑھانا ہے وہ جو اوروں پہ مسکراتا تھا اب اسے خود پہ مسکرانا ہے دن کے بکھرے ہوئے اجالے ...

مزید پڑھیے

میرے کمرے میں اک ایسی کھڑکی ہے

میرے کمرے میں اک ایسی کھڑکی ہے جو ان آنکھوں کے کھلنے پر کھلتی ہے ایسے تیور دشمن ہی کے ہوتے ہیں پتا کرو یہ لڑکی کس کی بیٹی ہے رات کو اس جنگل میں رکنا ٹھیک نہیں اس سے آگے تم لوگوں کی مرضی ہے میں اس شہر کا چاند ہوں اور یہ جانتا ہوں کون سی لڑکی کس کھڑکی میں بیٹھی ہے جب تو شام کو گھر ...

مزید پڑھیے

فون تو دور وہاں خط بھی نہیں پہنچیں گے

فون تو دور وہاں خط بھی نہیں پہنچیں گے اب کے یہ لوگ تمہیں ایسی جگہ بھیجیں گے زندگی دیکھ چکے تجھ کو بڑے پردے پر آج کے بعد کوئی فلم نہیں دیکھیں گے مسئلہ یہ ہے میں دشمن کے قریں پہنچوں گا اور کبوتر مری تلوار پہ آ بیٹھیں گے ہم کو اک بار کناروں سے نکل جانے دو پھر تو سیلاب کے پانی کی طرح ...

مزید پڑھیے

ملن موسموں کی سزا چاہتا ہوں

ملن موسموں کی سزا چاہتا ہوں ترے ہجر کی انتہا چاہتا ہوں صداؤں سے محروم اپنی گلی میں بس اک تیری آواز پا چاہتا ہوں کسی ایک ہلچل میں وہ ساتھ ہوتا میں آوارۂ شب بجھا چاہتا ہوں گلابوں کے ہونٹوں پہ لب رکھ رہا ہوں اسے دیر تک سوچنا چاہتا ہوں تری قربتیں راکھ ہونے لگی ہیں میں اب دوریوں ...

مزید پڑھیے

وہ باد گرم تھا باد صبا کے ہوتے ہوئے

وہ باد گرم تھا باد صبا کے ہوتے ہوئے میں زخم زخم تھا برگ حنا کے ہوتے ہوئے بس ایک منظر خالی تھا میری آنکھوں میں نگار خانۂ رنگ حنا کے ہوتے ہوئے وہ طاق دل ہو کہ محراب منبر و مقتل چراغ سب نے جلائے ہوا کے ہوتے ہوئے عجیب لوگ تھے خاموش رہ کے جیتے تھے دلوں میں حرمت سنگ صدا کے ہوتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 120 سے 4657