گھڑی کی سوئیاں ٹک ٹک سنا رہی ہیں مجھے
گھڑی کی سوئیاں ٹک ٹک سنا رہی ہیں مجھے گزرتے وقت سے شاید ڈرا رہی ہیں مجھے ترے بیان کو لفظوں کی کیا ضرورت ہے کہ یہ خموشیاں سب کچھ بتا رہی ہیں مجھے تو کیا ہوا جو ترا پیار مل نہیں پایا تری یہ نفرتیں بھی راس آ رہی ہیں مجھے ہوا کی شوخیاں بتلا رہی ہیں تیرا پتہ حسین تتلیاں رستہ دکھا رہی ...