Shiv Om Misra Anvar

شیواوم مشرا انور

شیواوم مشرا انور کی غزل

    صحرا سے واپس آئے ہیں ڈوبے ہیں پیاس میں

    صحرا سے واپس آئے ہیں ڈوبے ہیں پیاس میں بھر دو سمندروں کو ہمارے گلاس میں دل میں خیال خاک تمنا لئے ہوئے لیٹا ہوا ہے کون یہ میلے لباس میں موجوں کا لہجہ دیکھ کے محسوس یہ ہوا دریا نہیں ہے آج تو ہوش و حواس میں اپنے حسین خواب کی تعمیر کے لئے بیچا ہے خود کو میں نے مہاجن کے پاس ...

    مزید پڑھیے

    خدا کے آگے جب فریاد رکھنا

    خدا کے آگے جب فریاد رکھنا دعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھنا ہمیں کو سوچنا راتوں میں اکثر حویلی یاد کی آباد رکھنا کوئی مشکل اگر ہو شاعری میں تو پھر عثمان سا استاد رکھنا گواہی ایک ہو خالی خدا کی کسی کاسہ میں جب امداد رکھنا سبق پڑھنا اگر تم زندگی کے ہمیشہ وقت کو استاد رکھنا چلے ہو ...

    مزید پڑھیے

    جب کڑی دھوپ سے قدموں میں تھکن آتی ہے

    جب کڑی دھوپ سے قدموں میں تھکن آتی ہے زندگی پیڑ تلے بیٹھ کے سستاتی ہے روح اک مرگ کے عالم سے گزرتی ہے یہاں زندگی خود کو اکیلی جو کبھی پاتی ہے جب بھی آتا ہے مرے دل میں کوئی شور طرب ایک خاموشی مرے جسم میں چلاتی ہے رقص کرتے ہیں مری راہ کے لشکر ہر سو زندگی جب بھی کوئی گیت نیا گاتی ...

    مزید پڑھیے

    موت کا غم نہیں خوشیوں کے نظارے ہوتے

    موت کا غم نہیں خوشیوں کے نظارے ہوتے میری تربت پہ اگر پھول تمہارے ہوتے میرے محبوب کے قدموں کی پذیرائی کو ایک دریا کے کئی اور کنارے ہوتے گر نکلتی مرے ارمان کی کوئی گنگا پھر تو صحراؤں کے کیا خوب نظارے ہوتے بچ نکلتا بھلا کیسے یہ سفینہ تیرا جو مخالف ترے طوفان کے دھارے ہوتے وقت لے ...

    مزید پڑھیے

    اپنے درون جسم سے بد خو نکالیے

    اپنے درون جسم سے بد خو نکالیے اک دیوتا کے روپ میں سادھو نکالیے جو تیرگی کے خوف سے خاموش ہو گئی اس رات کے لیے کئی جگنو نکالیے ابلیس گزرے دور کا زندہ ہے آج بھی اس کی قضا کے واسطے چاقو نکالیے کوئی مزہ نہیں ہے سیاست میں آج کل دیر و حرم سے کوئی تو جادو نکالیے اڑتے نہیں ہیں باز کے ...

    مزید پڑھیے

    ہوا کا کبر یہاں خاک میں ملا کر کے

    ہوا کا کبر یہاں خاک میں ملا کر کے چراغ عشق جلا ہے لہو جلا کر کے کیا ہے ختم تفکر کا سلسلہ میں نے ہر ایک نقش تری یاد کے مٹا کر کے یہ کس کے بوجھ نے بے حال کر دیا مجھ کو شگفتہ پھول مری قبر پر چڑھا کر کے ترے غموں کی حرارت سے تر بہ تر ہو کر شراب پی رہا ہوں تلخیاں ملا کر کے کھڑا ہے سامنے ...

    مزید پڑھیے

    دل کے پنے سے نہیں مٹتی عبارت ان کی

    دل کے پنے سے نہیں مٹتی عبارت ان کی اب بھی قائم ہے مرے دل میں محبت ان کی لوگ کرتے ہیں اندھیروں میں تجارت دیکھو سامنے آتی نہیں اب تو حقیقت ان کی پھول اتراتے ہیں ڈالی پہ ذرا دیکھو تو خوب بھاتی ہے مرے دل کو زیارت ان کی یاد بھی ذہن سے پھر دور بھلا ہو کیسے پاس مجھ کو جو بلا لیتی ہے ...

    مزید پڑھیے

    عشق سے پہلے وہ انسان تھا اچھا خاصا

    عشق سے پہلے وہ انسان تھا اچھا خاصا اس کا جیون بھی گلستان تھا اچھا خاصا ہم بزرگوں سے ہمیشہ یہی سنتے آئے اس جگہ پھولوں کا بستان تھا اچھا خاصا کب تلک ہاتھ کو پھیلاتا میں اس کے آگے اس کا پہلے سے ہی احسان تھا اچھا خاصا کسی عورت نے نہیں بھیجی ہے اس کو لعنت جو مرے جسم میں حیوان تھا ...

    مزید پڑھیے

    صحرا سے واپس آئے ہیں ڈوبے ہیں پیاس میں

    صحرا سے واپس آئے ہیں ڈوبے ہیں پیاس میں بھر دو سمندروں کو ہمارے گلاس میں دل میں خیال خاک تمنا لیے ہوئے لیٹا ہوا ہے کون یہ میلے لباس میں موجوں کا لہجہ دیکھ کے محسوس یہ ہوا دریا نہیں ہے آج تو ہوش و حواس میں اپنے حسین خواب کی تعمیر کے لیے بیچا ہے خود کو میں نے مہاجن کے پاس ...

    مزید پڑھیے

    ڈوب کر غم کی ندی میں مسکرانا چھوڑ دیں

    ڈوب کر غم کی ندی میں مسکرانا چھوڑ دیں آپ کی خاطر یہ دیوانے زمانہ چھوڑ دیں پھر سمندر پر لگے گی نسل آدم کی قطار ابر دھرتی پر اگر پانی کو لانا چھوڑ دیں میری طاقوں میں دھرے میری غریبی کے چراغ سلسلہ سورج سے اپنا کیا بتانا چھوڑ دیں آپ کی رنگت بدلنے کا مجھے بس خوف ہے دھوپ سے اپنے تعلق ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3