صحرا سے واپس آئے ہیں ڈوبے ہیں پیاس میں
صحرا سے واپس آئے ہیں ڈوبے ہیں پیاس میں بھر دو سمندروں کو ہمارے گلاس میں دل میں خیال خاک تمنا لئے ہوئے لیٹا ہوا ہے کون یہ میلے لباس میں موجوں کا لہجہ دیکھ کے محسوس یہ ہوا دریا نہیں ہے آج تو ہوش و حواس میں اپنے حسین خواب کی تعمیر کے لئے بیچا ہے خود کو میں نے مہاجن کے پاس ...