زندگی کے شکار کتنے ہیں
زندگی کے شکار کتنے ہیں اب بچے اور وار کتنے ہیں خوب ہنستے تھے پیٹھ کے پیچھے سامنے سوگوار کتنے ہیں ہم بھی سیراب ہو چکے غم سے اب یہاں روزگار کتنے ہیں جسم کی ٹوٹی سرحدوں کے پار دل کے باقی دیار کتنے ہیں میری آنکھو کے قید خانے سے خواب میرے فرار کتنے ہیں