Shiv Om Misra Anvar

شیواوم مشرا انور

شیواوم مشرا انور کی غزل

    زندگی کے شکار کتنے ہیں

    زندگی کے شکار کتنے ہیں اب بچے اور وار کتنے ہیں خوب ہنستے تھے پیٹھ کے پیچھے سامنے سوگوار کتنے ہیں ہم بھی سیراب ہو چکے غم سے اب یہاں روزگار کتنے ہیں جسم کی ٹوٹی سرحدوں کے پار دل کے باقی دیار کتنے ہیں میری آنکھو کے قید خانے سے خواب میرے فرار کتنے ہیں

    مزید پڑھیے

    میرا وجود قابل صحرا تو ہے نہیں

    میرا وجود قابل صحرا تو ہے نہیں سودا تمہارے عشق کا رکھا تو ہے نہیں بہتر ہے بھول جاؤں میں اس کی مخالفت اس سے نجات کا کوئی ذریعہ تو ہے نہیں اس دل میں ایک حلقۂ احباب اور ہے خالی تمہارے نام کا ٹھپہ تو ہے نہیں اگنی کے سات پھیرے لئے ہیں تمہارے ساتھ خالی یہ چند روز کا رشتہ تو ہے ...

    مزید پڑھیے

    کب تلک بات کروں میں تری تصویر کے ساتھ

    کب تلک بات کروں میں تری تصویر کے ساتھ لفظ لپٹے ہیں مرے حلقۂ زنجیر کے ساتھ خواب میں دیکھا تھا کل رات نظارہ کیسا ایک زنجیر بندھی تھی مری تصویر کے ساتھ حشر تک جیت کا ارمان لیے بیٹھا رہا وقت کی ناؤ پہ ٹوٹی ہوئی شمشیر کے ساتھ بات ہم کو نہ سمجھ آئی تمہاری اب تک بات ہم کو ذرا سمجھاؤ تو ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹے ہوئے کھلونے نشانی میں دے گیا

    ٹوٹے ہوئے کھلونے نشانی میں دے گیا دھوکہ مجھے وہ عین جوانی میں دے گیا یہ اور بات مصرع اولیٰ میں کچھ نہیں لیکن وہ حسن مصرع ثانی میں دے گیا دریا نے تشنہ لب سے سیاست عجیب کی کچھ زہر بھی ملا کے وہ پانی میں دے گیا لایا ہزار خوشیاں مجھے سونپنے مگر پھر کیوں یہ رنج ریشہ داوانی میں دے ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹے ہوئے کھلونے نشانی میں دے گیا

    ٹوٹے ہوئے کھلونے نشانی میں دے گیا دھوکہ مجھے وہ عین جوانی میں دے گیا یہ اور بات مصرع اولیٰ میں کچھ نہیں لیکن وہ حسن مصرع ثانی میں دے گیا دریا نے تشنہ لب سے سیاست عجیب کی کچھ زہر بھی ملا کے وہ پانی میں دے گیا لایا ہزار خوشیاں مجھے سونپنے مگر پھر کیوں یہ رنج ریشہ داوانی میں دے ...

    مزید پڑھیے

    کان میں آ کے کوئی شخص صدا دیتا ہے

    کان میں آ کے کوئی شخص صدا دیتا ہے خوف موہوم کی شدت کو بڑھا دیتا ہے چاندنی رات میں دیدار ترے پرتو کا میرے فرہاد کو شیریں سے ملا دیتا ہے ہجر کی رات میں وہ کیف تصور تیرا جو ارادوں میں نیا جوش جگا دیتا ہے بات کرنے کا ترے رنگ برنگا لہجہ زندگی کو مری رنگین بنا دیتا ہے میرا حالات سے ...

    مزید پڑھیے

    بنا کے چاروں طرف اک لکیر بیٹھا ہے

    بنا کے چاروں طرف اک لکیر بیٹھا ہے گھنے درخت کے نیچے فقیر بیٹھا ہے کرے گا کون محبت یہاں دوبارہ دوست فریب عشق کلیجہ کو چیر بیٹھا ہے میں کیسے خود کو بچا پاتا تیری نظروں سے بڑا سٹیک نشانے پہ تیر بیٹھا ہے سبق کوئی نہیں دیتا دلوں کو جوڑنے کا اسی ملال میں ڈوبا کبیر بیٹھا ہے اٹھے گی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3