اپنے درون جسم سے بد خو نکالیے

اپنے درون جسم سے بد خو نکالیے
اک دیوتا کے روپ میں سادھو نکالیے


جو تیرگی کے خوف سے خاموش ہو گئی
اس رات کے لیے کئی جگنو نکالیے


ابلیس گزرے دور کا زندہ ہے آج بھی
اس کی قضا کے واسطے چاقو نکالیے


کوئی مزہ نہیں ہے سیاست میں آج کل
دیر و حرم سے کوئی تو جادو نکالیے


اڑتے نہیں ہیں باز کے بچہ منڈیر پر
چھونا ہے آسمان تو بازو نکالیے


محسوس ہو مجھے ترے احساس کی مہک
کاغذ کے پھول سے کوئی خوشبو نکالیے


پہلے تو کیجئے کسی دامن کا انتظام
پھر اس کے بعد آنکھ سے آنسو نکالیے


مطلب کی بات تھی ذرا ہم بھی تو جان لیں
دو چار اس کی بات کے پہلو نکالیے