عشق سے پہلے وہ انسان تھا اچھا خاصا
عشق سے پہلے وہ انسان تھا اچھا خاصا
اس کا جیون بھی گلستان تھا اچھا خاصا
ہم بزرگوں سے ہمیشہ یہی سنتے آئے
اس جگہ پھولوں کا بستان تھا اچھا خاصا
کب تلک ہاتھ کو پھیلاتا میں اس کے آگے
اس کا پہلے سے ہی احسان تھا اچھا خاصا
کسی عورت نے نہیں بھیجی ہے اس کو لعنت
جو مرے جسم میں حیوان تھا اچھا خاصا
دو دو دریا میری آنکھوں میں رواں رہنے لگے
اور میں پیاس سے ہلکان تھا اچھا خاصا
آئنہ کہتا ہے کیا ہو گیا انورؔ ہو اداس
پہلے بھیتر ترے شیطان تھا اچھا خاصا