موت کا غم نہیں خوشیوں کے نظارے ہوتے

موت کا غم نہیں خوشیوں کے نظارے ہوتے
میری تربت پہ اگر پھول تمہارے ہوتے


میرے محبوب کے قدموں کی پذیرائی کو
ایک دریا کے کئی اور کنارے ہوتے


گر نکلتی مرے ارمان کی کوئی گنگا
پھر تو صحراؤں کے کیا خوب نظارے ہوتے


بچ نکلتا بھلا کیسے یہ سفینہ تیرا
جو مخالف ترے طوفان کے دھارے ہوتے


وقت لے آیا عجب موڑ پہ مجھ کو ورنہ
آسماں پر مری قسمت کے ستارے ہوتے