جب کڑی دھوپ سے قدموں میں تھکن آتی ہے

جب کڑی دھوپ سے قدموں میں تھکن آتی ہے
زندگی پیڑ تلے بیٹھ کے سستاتی ہے


روح اک مرگ کے عالم سے گزرتی ہے یہاں
زندگی خود کو اکیلی جو کبھی پاتی ہے


جب بھی آتا ہے مرے دل میں کوئی شور طرب
ایک خاموشی مرے جسم میں چلاتی ہے


رقص کرتے ہیں مری راہ کے لشکر ہر سو
زندگی جب بھی کوئی گیت نیا گاتی ہے


یہ کتابیں یہ رسالے ذرا تم بھی پڑھ لو
ان سے اچھائی برائی کی سمجھ آتی ہے


وہ مرے خواب کی معصوم سی پیاری لڑکی
میمنہ گود میں لے کر بڑا مسکاتی ہے


میں تو چٹان ہوں ساحل کی مجھے کیا شکوہ
لہر چھو کے مرے دامن کو پلٹ جاتی ہے