خدا کے آگے جب فریاد رکھنا
خدا کے آگے جب فریاد رکھنا
دعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھنا
ہمیں کو سوچنا راتوں میں اکثر
حویلی یاد کی آباد رکھنا
کوئی مشکل اگر ہو شاعری میں
تو پھر عثمان سا استاد رکھنا
گواہی ایک ہو خالی خدا کی
کسی کاسہ میں جب امداد رکھنا
سبق پڑھنا اگر تم زندگی کے
ہمیشہ وقت کو استاد رکھنا
چلے ہو تم یہ کیا ایجاد کرنے
کوئی آساں نہیں بنیاد رکھنا