ڈوب کر غم کی ندی میں مسکرانا چھوڑ دیں

ڈوب کر غم کی ندی میں مسکرانا چھوڑ دیں
آپ کی خاطر یہ دیوانے زمانہ چھوڑ دیں


پھر سمندر پر لگے گی نسل آدم کی قطار
ابر دھرتی پر اگر پانی کو لانا چھوڑ دیں


میری طاقوں میں دھرے میری غریبی کے چراغ
سلسلہ سورج سے اپنا کیا بتانا چھوڑ دیں


آپ کی رنگت بدلنے کا مجھے بس خوف ہے
دھوپ سے اپنے تعلق کو بڑھانا چھوڑ دیں


موت ہم کو دیکھ کر ڈھونڈھے گی خود راہ فرار
زندگی کے ہم اگر نخرے اٹھانا چھوڑ دیں