Mohammad Alvi

محمد علوی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the most prominent modern poets. Known for his style of layered simplicity. Recipient of Sahitya Academy award.

محمد علوی کی نظم

    سورج

    وہ دیکھو سورج زمیں کے اندر اتر رہا ہے چلو اسے دفن کر کے اپنے گھروں کو جائیں تمام دن کا عذاب کھونٹی پہ ٹانگ کر میلے بستروں کو چمکتے خوابوں سے جگمگائیں یہ وقت کیوں جاگ کر گنوائیں کہ کل یہ سورج اسی زمیں سے نکل کے اپنے سروں پہ ہوگا چلو اسے دفن کر کے اپنے گھروں کو جائیں

    مزید پڑھیے

    چوتھا آسمان

    اور میں نے خدا سے کہا دیکھ تیری مخلوق چوتھے آسمان پر آ گئی ہے تو پردۂ غیب سے آواز آئی ''کن'' اور پلک جھپکتے میں سات اور آسمان چوتھے آسمان پر پھیل گئے! اور میرے اندر اک اور جنگل اگ آیا!!

    مزید پڑھیے

    روٹی

    پڑوسی کی بکری نے پھر گھر میں گھس کر کوئی چیز کھا لی بیوی نے سر پہ قیامت اٹھا لی منے کو رونے میں جیسے مزا آ رہا ہے برابر وہ روئے چلا جا رہا ہے فقیر اب بھی چوکھٹ سے چپکا ہوا ہے وہی روز والی دعا دے رہا ہے روٹی کے جلنے کی بو اور اماں کی چیخوں سے گھر بھر گیا ہے پنجرے میں چکراتے مٹھو کی ...

    مزید پڑھیے

    تنہائی

    کچھ دنوں سے اک چڑیا چپ اداس گم سم سی شام ہوتے آتی ہے گھر میں ایک فوٹو پر آ کے بیٹھ جاتی ہے اس سمے گھڑی میری ٹھیک چھ بجاتی ہے کچھ ہی دیر میں چڑیا شام کے دھندلکے میں ڈوب ڈوب جاتی ہے اور گھر کا دروازہ رات کھٹکھٹاتی ہے

    مزید پڑھیے

    وقت

    ہم نے وقت کو گھڑی میں قید کر دیا ہے جہاں وہ رات دن ہاتھ پھیلا کے ہاتھ اٹھا کے ہاتھ جوڑ کے فریاد کرتا رہتا ہے! جب وہ آزاد تھا وہ زمانا یاد کرتا رہتا ہے!!

    مزید پڑھیے

    ہوا سرد ہے

    ہوا سرد ہے راستے کا دیا زرد ہے ہر طرف دھند ہے گرد ہے دور سے جو چلا آ رہا ہے وہ سایہ ہے لیکن نہ جانے وہ عورت ہے یا مرد ہے میں دریچے میں تنہا کھڑا سوچتا ہوں رات کے پاس میرے لیے کیا ہے ان جانی خوشیاں ہیں یا کل کا باسی پرانا پھپھوندی لگا درد ہے ہوا سرد ہے

    مزید پڑھیے

    یادیں

    کھڑکی کے پردے سرکا کر کمرے میں آ جاتی ہیں آپس میں چہلیں کرتی ہیں میری ہنسی اڑاتی ہیں میز پہ اک تصویر ہے اس کو دیکھ کے شور مچاتی ہیں میں گھبرا کے بھاگ اٹھتا ہوں وہ مل کر چلاتی ہیں کمرے سے ان کی آوازیں دور دور تک آتی ہیں دور دور تک آتی ہیں اور پتھر برساتی ہیں

    مزید پڑھیے

    تلاش

    ایک آنکھ تھی آدھے لب تھے اور اک چوٹی لمبی سی ایک کان میں چمک رہی تھی چاند سی بالی پڑی ہوئی ایک حنائی ہاتھ تھا جس میں لال کانچ کی چوڑی تھی ایک گلی میں دروازے سے جھانک رہی تھی اک لڑکی جانے کون گلی تھی اب میں چھان رہا ہوں گلی گلی

    مزید پڑھیے

    خدا کہاں ہے

    نہ مسجدوں میں نہ مندروں میں خدا کہاں ہے کدھر گیا ہے چلو مرے ساتھ میں بتاؤں مگر سمے اب گزر گیا ہے جلائے ہیں ہم نے ان گھروں میں خدا بھی جل بجھ کے مر گیا ہے

    مزید پڑھیے

    تخلیق

    ایک زنگ آلودہ توپ کے دہانے میں ننھی منی چڑیا نے گھونسلہ بنایا ہے

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5