Mohammad Alvi

محمد علوی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the most prominent modern poets. Known for his style of layered simplicity. Recipient of Sahitya Academy award.

محمد علوی کے تمام مواد

49 غزل (Ghazal)

    خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا

    خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا پھر نہ کھڑکی تھی نہ دروازہ تھا سونے رستے پہ سر شام کوئی گھر کی یادوں میں گھرا بیٹھا تھا لوگ کہتے ہیں کہ مجھ سا تھا کوئی وہ جو بچوں کی طرح رویا تھا رات تھی اور کوئی ساتھ نہ تھا چاند بھی دور کھڑا ہنستا تھا ایک میلا سا لگا تھا دل میں میں اکیلا ہی پھرا ...

    مزید پڑھیے

    کل رات سونی چھت پہ عجب سانحہ ہوا

    کل رات سونی چھت پہ عجب سانحہ ہوا جانے دو یار کون بتائے کہ کیا ہوا نظروں سے ناپتا ہے سمندر کی وسعتیں ساحل پہ اک شخص اکیلا کھڑا ہوا لمبی سڑک پہ دور تلک کوئی بھی نہ تھا پلکیں جھپک رہا تھا دریچہ کھلا ہوا مانا کہ تو ذہین بھی ہے خوب رو بھی ہے تجھ سا نہ میں ہوا تو بھلا کیا برا ہوا دن ...

    مزید پڑھیے

    کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں

    کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں ہم نے رکھے ہیں خواب آنکھوں میں رات آئی تو چاند سا چہرہ لے کے آیا شراب آنکھوں میں دیکھو ہم اک سوال کرتے ہیں لکھ رکھنا جواب آنکھوں میں اس میں خطرا ہے ڈوب جانے کا جھانکئے مت جناب آنکھوں میں کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں کبھی گم ہیں کتاب آنکھوں ...

    مزید پڑھیے

    سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے

    سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے اسی بہانے ذرا منہ دکھا گئے ہوتے تمہیں بھی وقت کی رفتار کا پتہ چلتا نکل کے گھر سے گلی تک تو آ گئے ہوتے گلا بھگو کے کہیں اور صدا لگا لیتا ذرا فقیر کو پانی پلا گئے ہوتے ارے یہ ٹھیک ہوا ہونٹ سی لیے ہم نے وگرنہ لوگ تجھے کب کا پا گئے ہوتے بھلا ہو چاند ...

    مزید پڑھیے

    کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر

    کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر اب اور اپنے آپ کو مت پائمال کر مرنے کے ڈر سے اور کہاں تک جئے گا تو جینے کے دن تمام ہوئے انتقال کر اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیں اک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال ...

    مزید پڑھیے

تمام

42 نظم (Nazm)

    جل مرنے سے پہلے

    کھڑکی بند کرو دروازہ مت کھولو بولنا ہے تو آنکھوں ہی آنکھوں میں بولو شور گلی تک آ پہنچا ہے جل مرنے سے پہلے آؤ گلے مل کر رو لو

    مزید پڑھیے

    قبر میں

    میرے جسم پر رینگتی چونٹیوں کے علاوہ یہاں کوئی ہے کوئی بھی تو نہیں ہے مگر ایک آواز آتی ہے مجھ سے کوئی پوچھتا ہے بتا تیرا رب کون ہے کون ہے؟ کون ہے اور میں سوچتا ہوں اگر میرا رب کوئی ہے تو اسے میرے مرنے کا غم کیوں نہیں ہے!

    مزید پڑھیے

    یکم جنوری

    پھر اک سرد ٹھٹھرا ہوا دن دبے پاؤں چلتا ہوا بالکنی سے کمرے میں آیا مجھے اپنے بستر میں دبکا ہوا دیکھ کر مسکرایا اور آرام کرسی پہ بیٹھا گھڑی گود میں رکھ کے کانٹا گھمایا تھکے پاؤں چلتا ہوا بالکنی کو لوٹا تو چاروں طرف سے اندھیروں نے بڑھ کے اسے پھاڑ کھایا

    مزید پڑھیے

    خلل

    حوض میں بے حرکت پانی کی سطح پر ایک مینڈک پاؤں لمبائے آرام سے اونگھ رہا ہے! ابھی کوئی وضو کرنے آئے گا اور پانی میں ہلچل مچائے گا!!

    مزید پڑھیے

    مچھلی کی بو

    بستر میں لیٹے لیٹے اس نے سوچا ''میں موٹا ہوتا جاتا ہوں کل میں اپنے نیلے سوٹ کو آلٹر کرنے درزی کے ہاں دے آؤں گا نیا سوٹ دو چار مہینے بعد سہی! درزی کی دوکان سے لگ کر جو ہوٹل ہے اس ہوٹل کی مچھلی ٹیسٹی ہوتی ہے کل کھاؤں گا لیکن مچھلی کی بو سالی ہاتھوں میں بس جاتی ہے کل صابن بھی لانا ہے گھر ...

    مزید پڑھیے

تمام