جل مرنے سے پہلے
کھڑکی بند کرو دروازہ مت کھولو بولنا ہے تو آنکھوں ہی آنکھوں میں بولو شور گلی تک آ پہنچا ہے جل مرنے سے پہلے آؤ گلے مل کر رو لو
ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ
One of the most prominent modern poets. Known for his style of layered simplicity. Recipient of Sahitya Academy award.
کھڑکی بند کرو دروازہ مت کھولو بولنا ہے تو آنکھوں ہی آنکھوں میں بولو شور گلی تک آ پہنچا ہے جل مرنے سے پہلے آؤ گلے مل کر رو لو
میرے جسم پر رینگتی چونٹیوں کے علاوہ یہاں کوئی ہے کوئی بھی تو نہیں ہے مگر ایک آواز آتی ہے مجھ سے کوئی پوچھتا ہے بتا تیرا رب کون ہے کون ہے؟ کون ہے اور میں سوچتا ہوں اگر میرا رب کوئی ہے تو اسے میرے مرنے کا غم کیوں نہیں ہے!
پھر اک سرد ٹھٹھرا ہوا دن دبے پاؤں چلتا ہوا بالکنی سے کمرے میں آیا مجھے اپنے بستر میں دبکا ہوا دیکھ کر مسکرایا اور آرام کرسی پہ بیٹھا گھڑی گود میں رکھ کے کانٹا گھمایا تھکے پاؤں چلتا ہوا بالکنی کو لوٹا تو چاروں طرف سے اندھیروں نے بڑھ کے اسے پھاڑ کھایا
حوض میں بے حرکت پانی کی سطح پر ایک مینڈک پاؤں لمبائے آرام سے اونگھ رہا ہے! ابھی کوئی وضو کرنے آئے گا اور پانی میں ہلچل مچائے گا!!
بستر میں لیٹے لیٹے اس نے سوچا ''میں موٹا ہوتا جاتا ہوں کل میں اپنے نیلے سوٹ کو آلٹر کرنے درزی کے ہاں دے آؤں گا نیا سوٹ دو چار مہینے بعد سہی! درزی کی دوکان سے لگ کر جو ہوٹل ہے اس ہوٹل کی مچھلی ٹیسٹی ہوتی ہے کل کھاؤں گا لیکن مچھلی کی بو سالی ہاتھوں میں بس جاتی ہے کل صابن بھی لانا ہے گھر ...
خدا وند.... مجھ میں کہاں حوصلہ ہے کہ میں تجھ سے نظریں ملاؤں تری شان میں کچھ کہوں تجھے اپنی نظروں سے نیچے گراؤں خدا وند مجھ میں کہاں حوصلہ ہے کہ تو روز اول سے پہلے بھی موجود تھا آج بھی ہے ہمیشہ رہے گا اور میں میری ہستی ہی کیا ہے آج ہوں کل نہیں ہوں خدا وند مجھ میں کہاں حوصلہ ہے مگر آج ...
دیواریں دروازے دریچے گم سم ہیں باتیں کرتے بولتے کمرے گم سم ہیں ہنستی شور مچاتی گلیاں چپ چپ ہیں روز چہکنے والی چڑیاں چپ چپ ہیں پاس پڑوسی ملنے آنا بھول گئے برتن آپس میں ٹکرانا بھول گئے الماری نے آہیں بھرنا چھوڑ دیا صندوقوں نے شکوہ کرنا چھوڑ دیا مٹھو ''بی بی روٹی دو'' کہتا ہی ...
تم سے بچھڑتے وقت میں نے سوچا تھا کس طرح جیوں گا! کس کس سے چھپ کے رہ سکوں گا آنسو کہاں کہاں پیوں گا! گھر میں اگر کسی نے پوچھا! ''کیا بات ہے اداس کیوں ہو'' ڈر تھا مجھے کہ رو پڑوں گا! لیکن یہ اتفاق دیکھو میں گھر گیا تو میرے گھر کا ایک ایک فرد رو رہا تھا!
مگر میں خدا سے کہوں گا خدا وند! میری سزا تو کسی اور کو دے کہ میں نے یہاں اس زمیں پر سزائیں قبولیں ہیں ان کی کہ جن سے مجھے صرف اتنا تعلق رہا ہے کہ میں اور وہ دونوں تجھ کو خدا مانتے تھے! یہ سچ ہے ترا عکس دیکھا تھا ہم نے الگ آئینوں میں مگر میں خدا سے کہوں گا خدا وند! یہ دن قیامت کا دن ...
مجھ کو اب بھی یاد ہے اک دن گھر والوں کی آنکھ بچا کر میں نے اک سونے کمرے میں اک لڑکی کو چوم لیا تھا اب وہ لڑکی ماں ہے، اس کے کالے پیلے بچے ہیں بچے میری گود میں آ کر مجھ کو ابا کہتے ہیں