Mohammad Alvi

محمد علوی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the most prominent modern poets. Known for his style of layered simplicity. Recipient of Sahitya Academy award.

محمد علوی کی نظم

    اور پھر یوں ہوگا

    ہاں یہ آخری صدی ہے اس کے اختتام پر یہ زمیں سورج کی گرفت سے نکل کر اندھیروں میں ڈوبتی چلی جائے گی اور کسی تاریک سیارے سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی! اور پھر یوں ہوگا زمیں کے اک ٹکڑے پر اک درخت ہوگا اور اس کی چھاؤں میں اک بھائی اور اک بہن اک دوسرے سے لپٹ کر سو رہے ہوں گے اور شیطان ان ...

    مزید پڑھیے

    خالی مکان

    جالے تنے ہوئے ہیں گھر میں کوئی نہیں ''کوئی نہیں'' اک اک کونا چلاتا ہے دیواریں اٹھ کر کہتی ہیں ''کوئی نہیں'' ''کوئی نہیں'' دروازہ شور مچاتا ہے کوئی نہیں اس گھر میں کوئی نہیں لیکن کوئی مجھے اس گھر میں روز بلاتا ہے روز یہاں میں آتا ہوں ہر روز کوئی میرے کان میں چپکے سے کہہ جاتا ہے ''کوئی ...

    مزید پڑھیے

    کہاں دفن ہے وہ

    نقاہت کے مارے برا حال تھا پھر بھی بستر سے اٹھ کر بڑے پیار سے اس نے مجھ کو بلایا مرے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ پھیرا نہایت حلیمی سے مجھ کو کہا سنو میرے بچے تمہیں آج میں اپنے پچپن برس دے رہا ہوں اگر ہو سکے تو کبھی ان کی قیمت چکانا مری قبر پر تھوک جانا بس اتنا کہا اور وہ مر گیا اور میں اس کے ...

    مزید پڑھیے

    دلی

    دلی تیری آنکھ میں تنکا ''قطب مینار'' دلی تیرے دل کا پتھر لال قلعہ دلی تیرے بٹوے میں غالبؔ کا مزار رہنے دے بوڑھی دلی کپڑے نہ اتار

    مزید پڑھیے

    تیسری آنکھ

    میں دونوں آنکھیں میچے گرتا پڑتا دوڑ رہا ہوں! آگے کیا ہے مجھ کو کچھ معلوم نہیں لیکن میری تیسری آنکھ پیچھے بھاگتے رات اور دن سال اور صدیاں دیکھ رہی ہے! پیچھے دور بہت پیچھے جھلمل کرتی بجھتی خوشیاں دیکھ رہی ہے! میں دونوں آنکھیں میچے تیسری آنکھ سے روتا ہوں!!

    مزید پڑھیے

    بند گھر اور چڑیا

    جاری جا اڑ جا چڑیا اس گھر میں مت آ چڑیا کیا تجھ کو معلوم نہیں یہ گھر کب سے بند پڑا ہے بہت دنوں کے بعد گھڑی بھر اس گھر کا دروازہ کھلا ہے اور تو اس گھر میں پگلی رہنے بسنے آئی ہے چھوڑ گئے جو اس گھر کو ان پر ہنسنے آئی ہے جاری جا اڑ جا چڑیا اس گھر میں مت آ چڑیا ابھی اندھیرا چھا جائے گا یہ ...

    مزید پڑھیے

    اب جدھر بھی جاتے ہیں

    پہلے ایسا ہوتا تھا بھانت بھانت کے بندر شہر کی فصیلوں پر محفلیں جماتے تھے گھر میں کود آتے تھے ہاتھ میں سے بچوں کے روٹی نوچ جاتے تھے اب تو وہ مداری بھی خالی ہاتھ آتا ہے بھیک مانگ کر گھر گھر گھر کو لوٹ جاتا ہے اب گھروں میں چڑیوں کا شور کیوں نہیں ہوتا رات کو کوئی الو پیڑ پر نہیں ...

    مزید پڑھیے

    ایک بچہ

    آج سے پہلے میرا گھر سویا سویا رہتا تھا سورج روز نکلتا تھا روز سویرا ہوتا تھا آنگن میں دیواروں پر دھوپ چمکتی رہتی تھی گھر کی اک اک کھڑکی میں نور کی ندی بہتی تھی سارا سارا دن چھت پر کاگے شور مچاتے تھے نل نیچے پانی پینے روز کبوتر آتے تھے دروازے پر دستک کی مہریں چمکا کرتی تھیں سرد ...

    مزید پڑھیے

    بدن کا فیصلہ

    یہ بدن جسے میں بہترین غذائیں کھلاتا رہا پانی کی جگہ شراب پلاتا رہا یہی بدن مجھ سے کہتا ہے جاؤ دفع ہو جاؤ جنت کے مزے اڑاؤ کہ دوزخ کے عذاب اٹھاؤ میری بلا سے میں تو اب قبر میں سو رہوں گا مٹی ہوں مٹی کا ہو رہوں گا!!

    مزید پڑھیے

    اکیلی عورت اور ٹی وی

    شوہر کی موت کے بعد گھر میں وہ اکیلی رہ گئی تھی! وقت کاٹے نہ کٹتا تھا چھوٹا سا گھر بہت بڑا لگتا تھا! گزرا ہوا اچھا سمے یاد آتا تھا تنہائی کا احساس اندر ہی اندر کھائے جاتا تھا! گھبرا کے اس نے ٹی وی پال لیا ہنستے گاتے ٹی وی نے اسے سنبھال لیا!!

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5