وقت محمد علوی 07 ستمبر 2020 شیئر کریں ہم نے وقت کو گھڑی میں قید کر دیا ہے جہاں وہ رات دن ہاتھ پھیلا کے ہاتھ اٹھا کے ہاتھ جوڑ کے فریاد کرتا رہتا ہے! جب وہ آزاد تھا وہ زمانا یاد کرتا رہتا ہے!!