Mohammad Alvi

محمد علوی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the most prominent modern poets. Known for his style of layered simplicity. Recipient of Sahitya Academy award.

محمد علوی کی غزل

    خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا

    خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا پھر نہ کھڑکی تھی نہ دروازہ تھا سونے رستے پہ سر شام کوئی گھر کی یادوں میں گھرا بیٹھا تھا لوگ کہتے ہیں کہ مجھ سا تھا کوئی وہ جو بچوں کی طرح رویا تھا رات تھی اور کوئی ساتھ نہ تھا چاند بھی دور کھڑا ہنستا تھا ایک میلا سا لگا تھا دل میں میں اکیلا ہی پھرا ...

    مزید پڑھیے

    کل رات سونی چھت پہ عجب سانحہ ہوا

    کل رات سونی چھت پہ عجب سانحہ ہوا جانے دو یار کون بتائے کہ کیا ہوا نظروں سے ناپتا ہے سمندر کی وسعتیں ساحل پہ اک شخص اکیلا کھڑا ہوا لمبی سڑک پہ دور تلک کوئی بھی نہ تھا پلکیں جھپک رہا تھا دریچہ کھلا ہوا مانا کہ تو ذہین بھی ہے خوب رو بھی ہے تجھ سا نہ میں ہوا تو بھلا کیا برا ہوا دن ...

    مزید پڑھیے

    کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں

    کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں ہم نے رکھے ہیں خواب آنکھوں میں رات آئی تو چاند سا چہرہ لے کے آیا شراب آنکھوں میں دیکھو ہم اک سوال کرتے ہیں لکھ رکھنا جواب آنکھوں میں اس میں خطرا ہے ڈوب جانے کا جھانکئے مت جناب آنکھوں میں کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں کبھی گم ہیں کتاب آنکھوں ...

    مزید پڑھیے

    سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے

    سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے اسی بہانے ذرا منہ دکھا گئے ہوتے تمہیں بھی وقت کی رفتار کا پتہ چلتا نکل کے گھر سے گلی تک تو آ گئے ہوتے گلا بھگو کے کہیں اور صدا لگا لیتا ذرا فقیر کو پانی پلا گئے ہوتے ارے یہ ٹھیک ہوا ہونٹ سی لیے ہم نے وگرنہ لوگ تجھے کب کا پا گئے ہوتے بھلا ہو چاند ...

    مزید پڑھیے

    کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر

    کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر اب اور اپنے آپ کو مت پائمال کر مرنے کے ڈر سے اور کہاں تک جئے گا تو جینے کے دن تمام ہوئے انتقال کر اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیں اک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال ...

    مزید پڑھیے

    شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے

    شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے چپ رہنے میں اور مزا ہے کیا پایا دیوان چھپا کر لو ردی کے مول بکا ہے دروازے پر پہرہ دینے تنہائی کا بھوت کھڑا ہے گھر میں کیا آیا کہ مجھ کو دیواروں نے گھیر لیا ہے میں ناحق دن کاٹ رہا ہوں کون یہاں سو سال جیا ہے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے کوئی نہیں تو پھر یہ کیا ...

    مزید پڑھیے

    اسے نہ دیکھ کے دیکھا تو کیا ملا مجھ کو

    اسے نہ دیکھ کے دیکھا تو کیا ملا مجھ کو میں آدھی رات کو روتا ہوا ملا مجھ کو ترا نہ ملنا عجب گل کھلا گیا اب کے ترے ہی جیسا کوئی دوسرا ملا مجھ کو کل ایک لاش ملی تھی مجھے سمندر میں اسی کی جیب سے تیرا پتا ملا مجھ کو بہت ہی دور کہیں کوئی بم گرا تھا مگر مرا مکان بھی جلتا ہوا ملا مجھ ...

    مزید پڑھیے

    زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھا

    زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھا کسے دکھاتے بڑا ہول ناک منظر تھا لڑھک کے میری طرف آ رہا تھا اک پتھر پھر ایک اور پھر اک اور بڑا سا پتھر تھا فصیلیں دل کی گراتا ہوا جو در آیا وہ کوئی اور نہ تھا خواہشوں کا لشکر تھا بلا رہا تھا کوئی چیخ چیخ کر مجھ کو کنویں میں جھانک کے دیکھا تو ...

    مزید پڑھیے

    ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے

    ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے کرشمے سارے اسے آج ہی دکھانے تھے حقارتیں ہی ملیں ہم کو زنگ آلودہ دلوں میں یوں تو کئی قسم کے خزانے تھے یہ دشت تیل کا پیاسا نہ تھا خدا وندا یہاں تو چار چھ دریا ہمیں بہانے تھے کسی سے کوئی تعلق رہا نہ ہو جیسے کچھ اس طرح سے گزرتے ہوئے زمانے ...

    مزید پڑھیے

    اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو

    اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو بازار ہے تو ہم پہ کبھی مہرباں بھی ہو جاگیں تو آس پاس کنارا دکھائی دے دریا ہو پر سکون کھلا بادباں بھی ہو اک دوست ایسا ہو کہ مری بات بات کو سچ مانتا ہو اور ذرا بد گماں بھی ہو رستے میں ایک پیڑ ہو تنہا کھڑا ہوا اور اس کی ایک شاخ پہ اک آشیاں بھی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 5