اے میرے اجنبی
تو چلا جائے گا وقت آنسو ہی آنسو میں ڈھل جائے گا وقت آہوں میں میری بدل جائے گا وقت یادوں سے تیری بہل جائے گا جسم لاوے کی صورت پگھل جائے گا ذہن پارے کی صورت پھسل جائے گا تو چلا جائے گا اے میرے اجنبی
فلم اداکارہ جنہیں ’ملکہ غم ‘ کہا جاتا ہے ۔ ’ تنہا چاند ‘ ان کا شعری مجموعہ ہے
Film actress known as "The tragedy queen". She published a book of poetry "Tanha Chaand".
تو چلا جائے گا وقت آنسو ہی آنسو میں ڈھل جائے گا وقت آہوں میں میری بدل جائے گا وقت یادوں سے تیری بہل جائے گا جسم لاوے کی صورت پگھل جائے گا ذہن پارے کی صورت پھسل جائے گا تو چلا جائے گا اے میرے اجنبی
جلتی بجھتی سی روشنی کے پرے ہم نے اک رات ایسی پائی تھی روح کو دانت سے جس نے کاٹا جس کی ہر ادا مسکرائی تھی جس کی بھنچی ہوئی ہتھیلی سے سارے آتش فشاں ابل اٹھے جس کے ہونٹوں کی سرخی چھوتے ہی آگ سی تمام جنگلوں میں لگی راکھ ماتھے پہ چٹکی بھر کے رکھی خون کی جیوں بندیا لگائی ہو کس قدر جوان ...
دن گزرتا نظر نہیں آتا رات کاٹے نہیں کٹتی رات اور دن کے اس تسلسل میں عمر بانٹے سے بھی نہیں بٹتی تیری آواز میں تارے سے کیوں چمکنے لگے کس کی آنکھوں کے ترنم کو چرا لائی ہے کس کی آغوش کی ٹھنڈک پہ ڈاکا ڈالا ہے کس کی بانہوں سے تو شبنم کو اٹھا لائی ہے دن بہرحال بہر طور گزر جاتا ہے شام آتی ...
یہ کھڑکی میری دوست میری رفیق میری رازدار میرے دل کی سب دھڑکنوں کی امیں مسرت کے لمحات اور بے کراں غم کے سائے سب اترے میری زندگی میں میری سرد تنہائیوں میں اسی کے سہارے یہیں میں نے سر رکھ کر اکثر بنے ان گنت خواب ادھورے مکمل حسین مرتب کئے خاکے مستقبل نارسا کے یہیں سے کبھی مڑ کے ...
راکھ کا سارنگ پہنے برف کی لاش ہے لادے کا سا بدن پہنے گونگی چاہت ہے رسوائی کا کفن پہنے ہر ایک قطرہ مقدس ہے میلے آنسو کا ایک ہجوم اپاہج ہے آب کوثر پر یہ کیسا شور ہے جو بے آواز پھیلا ہے رو پہلی چھاؤں میں بد نامیوں کا ڈیرا ہے یہ کیسی جنت ہے جو چونک چونک جاتی ہے ایک انتظار مجسم کا نام ...
اجنبی دیس کے رستوں پہ بھٹکتے راہی میں نے سوچا ہے کہ آج تجھے خط لکھوں آج لکھوں کہ سلگتے ہوئے ارمانوں میں کتنے زہریلے سبک تیر چبھا کرتے ہیں کیسے دھندلائی ہوئی رات میں بے بس آنسو ڈر کے تنہائی سے تھم تھم کے بہا کرتے ہیں جھنجھلاہٹ میں تجھے بھولنے کی کوششیں بھی کیں کیسے پھر لوٹ بھی ...
برسات مبارک ہو یہ ساتھ مبارک ہو ہر دن رہے سلونا ہر رات مبارک ہو سنولائی ہوئی شاموں کو ہر صبح مبارک ہو ہچکی ہو یا سسکی ہو ہر نغمہ مبارک ہو برسات مبارک ہو برسات مبارک ہو
جانے کیا بات ہوئی تھی جو مجھے یاد نہیں رات کا پہلا قدم تھا کہ وہ تھا پچھلا پہر چوڑے دروازے سے نکلی تھی وہ معصوم سحر ایک دستک سنائی دی تھی یا تھا میرا وہم گنگناتی ہوئی خاموشی تھی یا میرا بھرم نیند چونکی تھی یا خوابوں کے صنم ٹوٹے تھے ایک دھندلی سی شکل یاد ہے اب بھی مجھ کو گندمی رنگ ...
ایک ویران سی خموشی میں کوئی سایہ سا سرسراتا ہے غم کی سنسان کالی راتوں میں دور اک دیپ ٹمٹماتا ہے گویا تیرے مریض الفت کا سانس سینے میں تھم کے آتا ہے میرے اشکوں کے آئنے میں آج کون ہے وہ جو مسکراتا ہے کون دستک سی دیتا رہتا ہے کیسا پیغام آتا جاتا ہے ایک گمنام راستے کا نشاں لمحہ لمحہ ...
لمحے اڑتے ہیں کبھی یا تو تتلیوں کی طرح یا کبھی خوشبوؤں کی مانند چیخ اٹھتے ہیں اسی رفتار اسی شور و غل کے دائرے کسی بھی لمحے کو ماضی نہیں بننے دیتے سمٹتے پھیلتے سانچے میں وقت کے ڈھل کر عجب شکل کے بن کر زمانہ رکھتے ہیں نام زمانہ جیسے اک فاقہ زدہ گدھوں کا گروہ بے کفن امیدوں کی لاشوں ...