روح کا چہرہ کتابی ہوگا
روح کا چہرہ کتابی ہوگا جسم کا رنگ عنابی ہوگا شربتی رنگ سے لکھو آنکھیں اور احساس شرابی ہوگا چشم پیمانہ سے ٹپکا آنسو کوئی بے چارہ ثوابی ہوگا
فلم اداکارہ جنہیں ’ملکہ غم ‘ کہا جاتا ہے ۔ ’ تنہا چاند ‘ ان کا شعری مجموعہ ہے
Film actress known as "The tragedy queen". She published a book of poetry "Tanha Chaand".
روح کا چہرہ کتابی ہوگا جسم کا رنگ عنابی ہوگا شربتی رنگ سے لکھو آنکھیں اور احساس شرابی ہوگا چشم پیمانہ سے ٹپکا آنسو کوئی بے چارہ ثوابی ہوگا
تمہیں چاہا سبھی نے دل سمجھ کر کہ دھوکا کھا گئے منزل سمجھ کر یہ سوچا تھا کہ اب کچھ غم ملیں گے بہت پچھتائے وہ سنگ دل سمجھ کر تمناؤں نے یوں جھٹکا ہے دامن مکان زیست کو منزل سمجھ کر
اداسیوں نے مری آتما کو گھیرا ہے رو پہلی چاندنی ہے اور گھپ اندھیرا ہے کہیں کہیں کوئی تارہ کہیں کہیں جگنو جو میری رات تھی وہ آپ کا سویرا ہے قدم قدم پہ بگولوں کو توڑتے جائیں ادھر سے گزرے گا تو راستہ یہ تیرا ہے افق کے پار جو دیکھی ہے روشنی تم نے وہ روشنی ہے خدا جانے یا اندھیرا ...
اب آنکھ کھلی اب ہوش آیا بہکا سا جب گل پوش آیا پتا پتا اب نکھرا ہے دل سا جو پردہ پوش آیا آنکھوں کو دیکھتے ہی بولے بن پئے کوئی مدہوش آیا اپنا ہی سودا کر بیٹھے تم سا جو صبا فروش آیا
عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے میرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے تیرے قدموں کی آہٹ کو ہے دل یہ ڈھونڈھتا ہر دم ہر اک آواز پہ اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے یہ کیسی یاس ہے رونے کی ...
تو چلا جائے گا وقت آنسو ہی آنسو میں ڈھل جائے گا وقت آہوں میں میری بدل جائے گا وقت یادوں سے تیری بہل جائے گا جسم لاوے کی صورت پگھل جائے گا ذہن پارے کی صورت پھسل جائے گا تو چلا جائے گا اے میرے اجنبی
جلتی بجھتی سی روشنی کے پرے ہم نے اک رات ایسی پائی تھی روح کو دانت سے جس نے کاٹا جس کی ہر ادا مسکرائی تھی جس کی بھنچی ہوئی ہتھیلی سے سارے آتش فشاں ابل اٹھے جس کے ہونٹوں کی سرخی چھوتے ہی آگ سی تمام جنگلوں میں لگی راکھ ماتھے پہ چٹکی بھر کے رکھی خون کی جیوں بندیا لگائی ہو کس قدر جوان ...
دن گزرتا نظر نہیں آتا رات کاٹے نہیں کٹتی رات اور دن کے اس تسلسل میں عمر بانٹے سے بھی نہیں بٹتی تیری آواز میں تارے سے کیوں چمکنے لگے کس کی آنکھوں کے ترنم کو چرا لائی ہے کس کی آغوش کی ٹھنڈک پہ ڈاکا ڈالا ہے کس کی بانہوں سے تو شبنم کو اٹھا لائی ہے دن بہرحال بہر طور گزر جاتا ہے شام آتی ...
یہ کھڑکی میری دوست میری رفیق میری رازدار میرے دل کی سب دھڑکنوں کی امیں مسرت کے لمحات اور بے کراں غم کے سائے سب اترے میری زندگی میں میری سرد تنہائیوں میں اسی کے سہارے یہیں میں نے سر رکھ کر اکثر بنے ان گنت خواب ادھورے مکمل حسین مرتب کئے خاکے مستقبل نارسا کے یہیں سے کبھی مڑ کے ...
راکھ کا سارنگ پہنے برف کی لاش ہے لادے کا سا بدن پہنے گونگی چاہت ہے رسوائی کا کفن پہنے ہر ایک قطرہ مقدس ہے میلے آنسو کا ایک ہجوم اپاہج ہے آب کوثر پر یہ کیسا شور ہے جو بے آواز پھیلا ہے رو پہلی چھاؤں میں بد نامیوں کا ڈیرا ہے یہ کیسی جنت ہے جو چونک چونک جاتی ہے ایک انتظار مجسم کا نام ...