یہ نور کیسا ہے
راکھ کا سارنگ پہنے
برف کی لاش ہے
لادے کا سا بدن پہنے
گونگی چاہت ہے
رسوائی کا کفن پہنے
ہر ایک قطرہ مقدس ہے میلے آنسو کا
ایک ہجوم اپاہج ہے آب کوثر پر
یہ کیسا شور ہے جو بے آواز پھیلا ہے
رو پہلی چھاؤں میں بد نامیوں کا ڈیرا ہے
یہ کیسی جنت ہے جو چونک چونک جاتی ہے
ایک انتظار مجسم کا نام خاموشی
اور احساس بے کراں پہ یہ سرحد کیسی
در و دیوار کہاں کی آوارگی کے
نور کی وادی تلک لمس کا اک سفر طویل
ہر ایک موڑ پہ بس دو ہی نام ملتے ہیں
موت کہہ لو جو محبت نہیں کہنے پاؤ
اسی کا نام محبت ہے جس کا نام ہے موت