مظہر حسین سید کی غزل

    نباہ کرتے ہوئے شام بے قرار کے ساتھ

    نباہ کرتے ہوئے شام بے قرار کے ساتھ ہماری عمر کٹی رنج بے شمار کے ساتھ یہ انتظار بھی اک کام تھا جو کرنا تھا مگر کچھ اور بھی کرنا تھا انتظار کے ساتھ بیان حسن کو حسن بیاں ضروری ہے کمال فن بھی ہے لازم جمال یار کے ساتھ سو منزلوں کے تعین سے بھی گریزاں ہوں میں دشت میں ہوں کسی سرپھرے ...

    مزید پڑھیے

    سلگتی ریت کو دریا نہیں کہا میں نے

    سلگتی ریت کو دریا نہیں کہا میں نے غزل کہی ہے قصیدہ نہیں کہا میں نے حضور محترم عزت مآب عالی جناب یہ سارا جھوٹ ہے ایسا نہیں کہا میں نے جو بے وفا تھا اسی کی طرف اشارہ کیا کنایتاً اسے دنیا نہیں کہا میں نے جو ہو بہ ہو تری تصویر بن کے آ جائے جو سچ کہوں تو کچھ ایسا نہیں کہا میں ...

    مزید پڑھیے

    لفظوں کا انبار لگایا

    لفظوں کا انبار لگایا لیکن بات نہیں کہہ پایا مجھ کو تو اس بات کا دکھ ہے اس نے بھی مجھ کو سمجھایا اور ہم سے کیا اٹھ سکتا تھا ہم نے نکتہ ایک اٹھایا طوفاں آئے بارش آئی دریا بھی میرے گھر آیا مظہرؔ اس کی نیند اڑا دی ہم نے جس کو خواب دکھایا

    مزید پڑھیے

    ندی نے گیت بھی گایا نہیں ہے

    ندی نے گیت بھی گایا نہیں ہے قبیلہ لوٹ کر آیا نہیں ہے ازل سے یہ روایت ہے ہماری اٹھایا ہے ستم ڈھایا نہیں ہے مزے کی بات ہے دل نا سمجھ ہے اور اس کو میں نے سمجھایا نہیں ہے غم دنیا معافی چاہتا ہوں یہ دل اس کو بھلا پایا نہیں ہے مجھے تم غور سے دیکھو یہ میں ہوں تمہارے جسم کا سایا نہیں ...

    مزید پڑھیے

    عشق میں قافلۂ سالار نہیں چاہیے ہے

    عشق میں قافلۂ سالار نہیں چاہیے ہے یہ تو دیوار ہے دیوار نہیں چاہیے ہے یہ تو سنتی ہے فقط درہم و دینار کی بات یہ ہے دنیا اسے کردار نہیں چاہیے ہے کہہ دیا ہے کہ محبت کی ضرورت ہے سو ہے ہم کو اس باب میں تکرار نہیں چاہیے ہے ہم تو اپنے ہی کسی دھیان میں بیٹھے ہوئے ہیں کھینچ لو سایۂ دیوار ...

    مزید پڑھیے

    سوچتا بولتا اک نیا آدمی

    سوچتا بولتا اک نیا آدمی ہو گیا آخرش لاپتہ آدمی چھوڑ جاتا ہے ایسا خلا آدمی بھر ہی سکتا نہیں دوسرا آدمی پا گیا تھا یقیناً تو سچائی کو یہ ترا جرم ہے گمشدہ آدمی زندگی بھی یوں ہی ہاتھ آتی نہیں اس کو بھی چاہیے سر پھرا آدمی کفر تو فرض ہے ایسے ماحول میں ہو جہاں آدمی کا خدا آدمی اک ...

    مزید پڑھیے

    کھل کے سچائی کا اظہار نہیں کر سکتے

    کھل کے سچائی کا اظہار نہیں کر سکتے ہم جو کرتے ہیں وہ اخبار نہیں کر سکتے زندگی تیرا تقاضا ہے کہ سرپٹ دوڑیں ہم وہ لاچار کہ انکار نہیں کر سکتے ان کو حق ہے کہ وہ انکار بھی کر سکتے ہیں ہم پہ قدغن ہے کہ اصرار نہیں کر سکتے سب کے سب مل کے مرے سامنے صف آرا ہیں کام ایسا ہے کہ دو چار نہیں کر ...

    مزید پڑھیے

    شجر کلام کریں شہر بھی نیا ہو جائے

    شجر کلام کریں شہر بھی نیا ہو جائے میں ایک اسم پڑھوں اور معجزہ ہو جائے یہ لوگ فرط تحیر سے مر بھی سکتے ہیں اگر یہ خواب حقیقت میں رونما ہو جائے گلے ملو کہ سلامت ہیں آج ہم دونوں کسے خبر کہ یہاں کون کب جدا ہو جائے یہ برملا جو میں اقبال عشق کرتا ہوں عجب نہیں کہ مجھے عشق میں سزا ہو ...

    مزید پڑھیے

    مرے شعور کو اس طرح ورغلایا گیا

    مرے شعور کو اس طرح ورغلایا گیا کوئی وجود نہیں تھا مگر دکھایا گیا کسی طرح بھی نہ آسیب مفلسی اترا دعا بھی کی گئی تعویذ بھی پلایا گیا نہ جانے کیوں مری تشکیل ہی نہیں کی گئی زمیں کا چاک یوں ہی بے سبب گھمایا گیا مجھے خبر ہے چھناکے سے ٹوٹ جائے گا میں آئنے کو اگر دیر تک دکھایا گیا نہ ...

    مزید پڑھیے

    یہ سوچتے ہوئے بازار سے نکل آیا

    یہ سوچتے ہوئے بازار سے نکل آیا نہ جانے آدمی کیوں غار سے نکل آیا خبر نہیں ہے کہ پھر بادشاہ پہ کیا گزری غزل سنا کے میں دربار سے نکل آیا سبھی کھڑے تھے کھلے گا ابھی در زنداں میں جلد بازی میں دیوار سے نکل آیا خبر غلط ہے میں یہ بات کہنے والا تھا کہ اک ریوالور اخبار سے نکل آیا سخن کو ...

    مزید پڑھیے