یہ سوچتے ہوئے بازار سے نکل آیا

یہ سوچتے ہوئے بازار سے نکل آیا
نہ جانے آدمی کیوں غار سے نکل آیا


خبر نہیں ہے کہ پھر بادشاہ پہ کیا گزری
غزل سنا کے میں دربار سے نکل آیا


سبھی کھڑے تھے کھلے گا ابھی در زنداں
میں جلد بازی میں دیوار سے نکل آیا


خبر غلط ہے میں یہ بات کہنے والا تھا
کہ اک ریوالور اخبار سے نکل آیا


سخن کو نعرہ قلم کو علم بناتے ہوئے
سکوت حجرۂ فن کار سے نکل آیا


عجب نہیں ہے کہ بازار کو بہا لے جائے
جو اشک چشم خریدار سے نکل آیا